خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 126

خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء کمشنر نے تقریر کرتے ہوئے کہا:۔میں گورنمنٹ کی طرف سے جماعت احمد یہ غانا کی دوراندیشی، عزم و ہمت اور کامیابی پر جو اس ہسپتال کی تعمیر سے ظاہر ہے اس کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔حکومت غانا جماعت احمدیہ کے اس کردار پر نہایت خوش ہے جو یہ ملک میں تعلیمی اور طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ادا کر رہی ہے جماعت احمدیہ کی غانا میں سرگرمیاں دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ملک بھر میں جابجا پھیلے ہوئے سکول اور ہسپتال اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ یہ جماعت ہمارے اس ملک کی تعمیر نو میں کس قدر حصہ لے رہی ہے۔“ اسی طرح ۱۹۷۳ء میں غانا کے صدر مملکت کی طرف سے سالانہ کانفرنس میں ان کے جو نمائندے آئے تھے انہوں نے یہ کہا کہ ” غانا کی قومی کونسل ( یعنی صدر اور وزراء ) بہت ہی شکر گزار ہے کہ جماعت احمدیہ ایک لمبے عرصے سے ملک کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی کے لئے مفید کام کر رہی ہے۔جماعت احمد یہ ملک کے عوام کی طبی تعلیمی اور روحانی میدان میں جو شاندار خدمات بجالا رہی ہے ان سے لوگ متعارف ہیں اور وہ شکریہ کے لائق ہے۔“ نائیجیریا کے کمشنر برائے تعلیم شمال مغربی سٹیٹ نائیجیر یا الحاج ابراہیم بساؤ نے فضل عمر احمد یہ سکینڈری سکول بساؤ کے افتتاح کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلم تنظیم اس امر کے لئے آگے بڑھی ہے کہ وہ ملک کی تعلیمی ترقی کے پروگرام میں حصہ لے۔‘ ( یہ نیونائیجیرین اخبار کا حوالہ ہے ) اس کے علاوہ اور بہت سے حوالے ہیں ان کو میں چھوڑتا ہوں۔صد سالہ جو بلی فنڈ : یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت برکت ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے ایسے آثار ظاہر ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی اس قربانی کو شرف قبولیت عطا کیا ہے اور آسمان کے فرشتے زمین کی تاریں ہلا کر ہمارے لئے