خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 91

خطابات ناصر جلد دوم ۹۱ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء مَا تُبَلِغْنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا يُهَوّنُ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِ نَا، وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارثَ مِنَّا وَاجْعَلُ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانُصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلُ مُصيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا ، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمْنَا۔(الجامع الصغير روایت ۱۵۰۵صفحه ۹۴ جلد ۱ تا ۲) اے میرے اللہ ! ہمیں اپنی وہ خشیت عطا فرما جو ہمیں گناہوں سے روک دے اور اپنی وہ فرمانبرداری عطا کر جس کے ذریعہ تو ہمیں اپنی جنت میں پہنچاوے اور وہ یقین عطا کر جو دُنیا کی مصیبتیں ہم پر آسان کر دے اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمارے کان آنکھ اور دوسری قو تیں سلامت رہیں اور ہماری نسلیں بھی تیری ان عنایات کی مستحق ٹھہریں اور جو ہم پر ظلم کرے ہماری طرف سے تو ہی ان سے انتقام لے اور جو ہم سے دشمنی کریں ان کے خلاف ہماری مددکر اور ہمارے دین کے بارہ میں ہم پر کوئی مصیبت نہ ڈال اور دُنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور ہمارے علم کی انتہانہ بنا اور ہم پر کوئی ایسا شخص مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔اسی طرح آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:۔اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِيْ اَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّی أَرَاكَ، وَاسْعِدُنِي بِتَقْوَاكَ وَلَا تَشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ، وَخِرُلِی فِی قَضَائِكَ وَبَارِكْ لِی فِی قَدْرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ ، وَاجْعَلْ عِنَايَ فِي نَفْسِى وَاَمْتِعُنِي بِسَمُعِي وَبَصَرِى وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّى وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي فِيْهِ تَأْرِي، وَاقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي (الجامع الصغير روایت ۱۵۲۶ صفحه ۹۵، جلد۲،۱) اے میرے اللہ! تو مجھے ایسا بنا کہ تیری خشیت مجھے سب سے زیادہ عطا ہو گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں مجھے اپنے تقویٰ کی سعادت بخش میں تیری نافرمانی کر کے بد بخت نہ بنوں اور تیری جناب میں جو بہتر تقدیر ہے وہ میرے لئے مقدر کر اور اپنی تقدیر میں میرے لئے برکت رکھ دے یہاں تک کہ میں اُس معاملہ کو جلدی نہ چاہوں جس میں تو نے تاخیر رکھ دی اور نہ اُس کی تاخیر