خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 71

خطابات ناصر جلد دوم 21 اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء رت کو نہیں پہچانتے لیکن میں اس وقت ان کی بات نہیں کر رہا۔اپاہج ہیں مثلاً پولیو کا مرض ہے اس میں صرف جسم کا جو ایک بیلنس تھانا اس کے اندر نروز (nerves) کے اوپر اثر پڑا اور ایک لات یا نچلا دھڑ یا اوپر سے نیچے تک آدھا دھڑ مفلوج ہو گیا۔تو زندگی تو ہے لیکن ایک حصہ ذات کے ساتھ قیوم خدا کا تعلق قائم نہیں رہا بلکہ ختم ہو گیا اب زندہ بھی ہے لیکن قیوم خدا کے ساتھ ایک حد تک تعلق قائم نہیں رہا۔جو پاگل ہیں۔بڑے خطر ناک قسم کے پاگل ہوتے ہیں ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔میں جانتا ہوں ایسے لوگ بھی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے بڑی دولتیں دیں اور ان کے نظام ہضم کی صحت جو تھی یعنی صحت نظام ہضم وہ ان سے چھین لی۔اب وہ کھانا کیا کھا ئیں، کئی دفعہ انہوں نے دیکھا کہ کچھ کھایا بھی جاتا ہے کہ نہیں اور ایک دو چیچے دہی کے منہ میں ڈال لئے یا اس قسم کی کوئی اور چیز لیکن وہ جو چیز کھاتے ہیں وہ پیٹ میں خرابی پیدا کر دیتی ہے تو قیوم خدا کے ساتھ اگر پختہ تعلق نہ رہے تو انسان کی ذات کے اندر اس طرح ہوتا ہے کہ جس طرح ایک بم پھٹ گیا اور انسان انسان نہیں رہتا۔جس خدا پر ہم ایمان لائے یا درکھو کہ اسے ہم الحی بھی سمجھتے ہیں اور القیوم بھی سمجھتے ہیں۔ہمیں اپنی زندگی کے لئے غیر اللہ کے پاس جا کے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں اور نہ اپنی صحت اور بقا اور ذات کے اس نظام، اس کائنات کے صحیح رہنے کے لئے کسی اور کے سامنے جھکنے کی ضرورت ہے اگر ہمارا تعلق الحی اور القیوم سے قائم رہے تو کسی اور کے ہم محتاج ہی نہیں۔ہم اسی کے محتاج ہیں اور خدا ہمیں ہمیشہ اپنا ہی محتاج رکھے۔یہ ہے خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں یعنی ہم جب ایمان باللہ کہتے ہیں تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ایک تو یہ کہ وہ پاک ہے، کامل ہے، ہر عیب سے منزہ ہے، ہر تعریف اسی کی طرف راجع ہوتی ہے الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة :۲) اور پھر وہ الحی ہے اور القیوم ہے اور دوسرے سورۃ فاتحہ میں بیان شدہ صفات کے مطابق وہ رب العالمین ہے۔اللہ۔اللہ کی ہی ہم بات کر رہے ہیں نا۔اللہ تعالیٰ کی صفات خود قرآن کریم نے بیان کیں قرآن کریم نے کہا کہ اللہ رب العالمین ہے ساری کائنات کا رب ہے۔رب کے معنی ہیں پیدا کیا ، تمام خواص دیئے اور بتدریج یعنی درجہ بدرجہ ترقی کا اصول قائم کیا ( یہ ربوبیت کے معنی کے اندر آتا ہے ) اور پھر اس اصول کے مطابق جس چیز کو جس کام کے لئے بنایا تھا اسے اس حد تک ترقی دیتا چلا گیا۔یہ زمین کے اندر مٹی کے ذرے، یہ جو تمہارے پاؤں کے نیچے آتے ہیں؟