خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 69
خطابات ناصر جلد دوم ۶۹ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء بعد میں دفتر سے گھر جارہا تھا کہ اتفاقاً مجھے وہ مزدور ملا میں نے اس کو بلایا۔میں نے کہا کیا حال ہے تمہارا وہ کہنے لگا اللہ نے فضل کیتا میں ٹھیک ہو گیا ہوں۔مجھے یقین نہیں آیا میں نے کہا کہ غریب آدمی ہے تھوڑ اسا افاقہ ہوا ہوگا تو مزدوری کرنے آ گیا ہے۔ممکن ہے کہ مزدوری کے بغیر ان کے گھر میں روٹی نہ پکتی ہو۔میں نے اسے کہا کہ ذرا دھوتی اٹھا کے مجھے گھٹنا تو دکھاؤ۔جب اس نے دھوتی اٹھا کے مجھے گھٹنا دکھایا تو مجھے یہ سمجھ نہ آئے کہ بیار گھٹنا کون سا تھا دایاں یا بایاں۔چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کی ورم بالکل جاتی رہی اور وہ ٹھیک ہو گیا۔تو اتنا بڑا احسان خدا تعالیٰ نے کیا ہے کہ ساری دنیا کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے اور تمہارے اندر بھی ایک دنیا آباد کر دی ہے۔تم جب باہر دیکھتے ہو تب بھی ساری کائنات کو اپنا خادم پاتے ہو اور جب اپنے اندر دیکھتے ہو تو وہاں بھی ایک کائنات چھپی ہوئی دیکھتے ہو اور اس کو بھی اپنا خادم پاتے ہو۔قرآن کریم نے کہا ہے۔اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ (الشعراء (۸۱) انسان بیمار آپ ہو جاتا ہے کہیں مزیدار کھانامل گیا تو بہت سارا کھا لیا اور جس کی عادت نہ ہوئی وہ کھالیا اب ہمارے ایک باہر سے آئے ہوئے بھائی ہیں۔بے خیالی میں انہوں نے کہا کہ میرے یہ سارے بھائی مرچیں کھاتے ہیں میں بھی کھا کے دیکھوں۔وہاں تو مرچیں کھائی نہیں جاتیں انہوں نے کھالیں تو ان کو ڈائیریا (Diarrhoea) شروع ہو گیا۔تو مَرِضُرت خود غلطی کی اور ڈائیریا ہو گیا۔پھر مجھے بھی پتہ لگا اور میں نے بھی ایک چھوٹی سی ہو میو پیتھک کی دوائی دے دی۔دو ڈاکٹر ان کے علاج پر لگے رہے۔ان کے لئے دعائیں کیں ، رات کے ایک دو بجے ان کو آرام آ گیا۔تو خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے سوائے خیر و خوبی کے اور کوئی چیز نہیں بنائی لیکن انسان ہے وہ بیمار بھی ہو جاتا ہے انسان ہے وہ بداخلاق بھی ہو جاتا ہے انسان ہے وہ ظالم بھی ہو جاتا ہے۔یہ نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے انسان پر اتنا احسان کیا ہے کہ ہر خیر و خوبی اس کے لئے پیدا کر دی اور یہ خدا کے مقابلے میں کھڑے ہو کر بعض لوگوں سے خیر اور خوبی چھینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کو غصہ آتا ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ پھر اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالی تلخ زندگی کے کوئی سامان پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک کو محفوظ رکھے۔بہر حال جس اللہ پر ہم ایمان لاتے ہیں ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ ایک تو وہ کامل اور بے عیب ذات اور پاک ذات ہے اور دوسرے یہ کہ ہر حمد کا مرجع اور منبع اس کی ذات ہے اور میں جس طرف آرہا ہوں ( کچھ دوسری طرف نکل گیا )۔