خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 68
خطابات ناصر جلد دوم ۶۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء۔میں زندگی اور قیام کے لحاظ سے دو بنیادی لے لیتا ہوں۔کیا ہے انسان؟ آپ میں سے ہر ایک سوچے کہ آپ کیا چیز ہیں ہر فرد جو ہے وہ کیا ہے۔ایک انسانی فرد ہے جس میں زندگی پائی جاتی ہے یہی ہیں نا آپ ! زندہ ، زندہ انسان ، لاشہ نہیں۔یہاں بیٹھے ہوئے ہیں آپ۔اللہ تعالیٰ آپ کی عمروں میں برکت ڈالے۔تو ایک ہے زندگی اور دوسرے آپ کے اندر اللہ تعالیٰ نے مختلف طاقتیں پیدا کی ہیں اور انسانی جسم کو ایک عالمین بنا دیا ہے آپ لوگوں کو پتہ نہیں یہ جو نمک آپ کھاتے ہیں نا اس نمک کا جسم کے اندر ایک بہت بڑا نظام ہے اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک اس کے فنکشنز (functions) ہیں۔اس کا ایک کام ہے جس کو ہمارے یہ ڈاکٹر میٹابولیزم (Metabolism) کہتے ہیں ایک پانی ہے پانی آپ پیتے ہیں اور پی کے آپ کو سیری کا احساس ہوتا ہے پانی کے ڈسٹری بیوشن (Distribution) کا جسم میں ایک نظام ہے اور دو بیماریاں ہیں ان میں سے کوئی ہو جائے تو پتہ لگتا ہے کہ پانی کا نظام خراب ہو گیا ہے۔ایک بیماری یہ ہے کہ جہاں پانی پہنچنا چاہئے تھا وہاں پہنچا نہیں۔جس جگہ جس مقدار میں پانی پہنچنا چاہئے وہاں پانی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں ایک بڑا ز بر دست نظام پیدا کیا ہے ڈاکٹر کے پاس مریض جاتا ہے یا مقرر ہی بعض دفعہ کہتے ہیں کہ گلا خشک ہو گیا ہے گلا کیسے خشک ہو گیا بیماری ہوگئی ہے۔کیونکہ گلے کو مناسب پانی پہنچتے رہنے کا جو نظام تھا اس کے اندر خرابی پیدا ہوگئی ہے۔دوسری بیماری یہ ہے کہ جہاں جتنا پانی پہنچنا چاہئے تھا اس سے زیادہ پہنچ گیا ہمارے پنجابی کا محاورہ ہے گوڈیاں وچ پانی پے گیا۔آپ نے کبھی سنا ہو گا۔میرے سامنے بھی جب میں کالج میں پرنسپل تھا ایک بیچارہ مزدور لایا گیا۔ٹھیکیدار کہنے لگا ایدے گوڈیاں وچ پانی پے گیا اے۔میں نے اس کو دیکھا اس نے دھوتی پہنی ہوئی تھی میں نے کہا ذرا اونچا کرو تو اس کا ایک گھٹنا فٹ بال کے برابر تھا اور وہ خود پتلا دبلا مزدور تھا۔انڈ رنو رنڈ (under nourished) دوسرا گھٹن بیچارے کا پتلا سا تھا۔بڑی تکلیف ہوئی مجھے۔خدا تعالیٰ نے اس کو شفا دینی تھی ہو میو پیتھک کی دو دوائیں ہیں اور ہومیو پیتھک کہتی ہے اگر اللہ فضل کرے تو ایک کا کام ہے کہ جہاں پانی نہیں پہنچا وہاں پانی پہنچا دینا اور دوسری کا کام ہے کہ جہاں پانی زیادہ ہو گیا ہے وہاں سے پانی نکال لینا۔میں نے کہا اس کو دونوں دے دیتے ہیں میں نے پڑیاں بنائیں اور پانچ سات اس کو دے دیں۔چوبیس گھنٹے کے