خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 572
خطابات ناصر جلد دوم ۵۷۲ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء میرے منصوبوں میں کوئی ماں جایا مجھے نا کام کرنے والا نہیں پیدا ہوا۔جو خدا نے کہا وہ ہوگا۔اب نعرے لگا لو تھوڑے سے دعا سے پہلے۔(نعرہ ہائے تکبیر، اسلام زندہ باد۔احمدیت زندہ باد۔خلافت احمد یہ زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے ) ہمارے اپنے ملک میں کچھ دکھیا مہاجر افغانستان کے ہیں۔حکومت وقت ان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ ان مہاجروں کی تکلیف دور ہو اور پھر اپنے وطنوں میں اپنے گھروں میں جا کر عزت کی زندگی گزارنے لگیں۔اور ایک اور گروہ بٹ گیا مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں وہ بھی بڑے مظلوم ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو بھی دور کرے اور ان کی خوشحالی کے بھی سامان پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی اسے بھولیں مت۔ہمیشہ ہم یا درکھیں اسے اور وہ بھی ہمیں کبھی نہ بھولے اور ہماری حفاظت کرتا رہے۔ہمارے دلوں کو اور زیادہ منور کرتا رہے۔ہمارے اخلاق پر اسلام کا اور زیادہ حسن پیدا کرتا رہے اور ہمیں اپنا بنا لے اور کسی اور کا محتاج نہ بنائے اور کمزور ہاتھوں نے جو اس کا مضبوط دامن پکڑا ہے وہ اپنا دامن جھٹک کے ہمیں پرے نہ پھینک دے بلکہ اور قریب لے آئے۔آواب دعا کر لیں۔پُرسوز اجتماعی دعا کے بعد حضور انور فلک شگاف نعروں کی گونج میں احباب جماعت کو السلام عليكم ورحمته الله وبركاته، اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو کہتے ہوئے جلسہ گاہ سے واپس تشریف لے گئے۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )