خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 504
خطابات ناصر جلد دوم ۵۰۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے۔جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اس کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پُر جوش دریا ان کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور پر نیستی ان پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہر یک رگ وریشہ سے بکی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد نمبر اصفه۵۴۳٬۵۴۲ حاشیه در حاشیہ نمبر۳) یہ وہ ایک گروہ ہے امتِ مسلمہ میں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں عبودیت کے اس مقام کو حاصل کیا جو مقام ان کے استاد اور مربی کا ہے وہ تو جیسا کہ قرآن کریم نے بتایارای مارای ہماری سمجھ اور عقل سے بالا ہے بہر حال عبودیت کا ایک بلند مقام اور افضیلت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی۔اور دوسرے محبت ذاتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔از انجملہ ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت الہی تاثیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیاران کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت انس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع اور گستہ کر دیتا ہے اور آتشِ عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبانِ صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے۔جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم