خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 503
خطابات ناصر جلد دوم ۵۰۳ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء اسی پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور وہی چیز ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو اور پیار کو پیدا کرتی ہے۔وہی چیز ہمارے دلوں میں یہ تڑپ پیدا کرتی ہے کہ ہم آپ کے نقش قدم کی تلاش کریں اور ان راہوں پر چلیں جن راہوں پر آپ چلتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقع ہے۔یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۲۵۱ بقیه حاشیه ) اس کے لئے اس کے سمجھنے کے لئے دو چیزوں کا سمجھنا ضروری ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عبودیت کی راہوں کو اس طرح اختیار کیا نا عبدُه وَرَسُولُهُ کہ کسی اور انسان کو وہ مقام حاصل نہیں۔اور محبت ذاتی یعنی جس میں لالچ کوئی نہیں تھی۔جو معرفت اور خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی شناخت کے بعد پیدا ہوتی ہے ایک ایسا عشق جو کلی طور پر اپنے محبوب میں فنا کو چاہتا ہے اور عملاً ایسا ہی ہو جاتا ہے۔ان دو چیزوں کے نتیجے میں مظہر اتم صفات الوہیت جسے ہم کہتے ہیں وہ حالت پیدا ہوئی عبودیت اور محبت ذاتی۔اور اس مقام کے نتیجہ میں آپ نے امت محمدیہ میں ایسے گروہ پیدا کئے جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اپنے پر چڑھائے ہوئے تھے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت ہے عبودیت کی اور جو آپ کی کیفیت ہے محبت ذاتی کی وہ تو ہم جان نہیں سکتے وہاں تک ہماری پہنچ نہیں۔لیکن جو آپ نے اپنی امت میں عبودیت کے رنگ میں رنگے ہوئے اور محبت ذاتی میں مست اور خدا کے عشق میں فنا ہونے والے پیدا کئے وہ ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔اس سے ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کا معلم اور استاد اور ان کا بادشاہ اور آقاکس بلندشان کا تھا۔صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دو گروہوں کی جن کی تربیت عبودیت اور محبت ذاتی کے رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے یہ بیان کی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اور منجملہ ان عطیات کے ایک کمال عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصانِ ذاتی اپنا پیشِ نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تذلل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان