خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 433
خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۳ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کے ماتحت قیصر عیسائیوں کا جو دوسری مملکت، دو مملکتیں اس وقت ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور، امیر تجربہ کار، ہر قسم کے اسباب کی مالک، دو تھیں یہ اور یہ دونوں ختم ہوئیں آگے پیچھے قیصر کو کسی طرح خیال پیدا ہوا کہ مسلمان نہتے ، ناتجربہ کار، غریب تھوڑا کھانے والے، اور کمزور جسموں والے ، ان کا خون تو تقریباً نچوڑ ہی لیا ہے کسری نے اب وقت ہے اسلام کو مٹا دو۔اسلام کو مٹانے کے لئے اس نے لڑائیاں شروع کیں اور دو چار شکستوں کے بعد اس نے فیصلہ کیا یہ تاریخ میں محفوظ ہے اس نے فیصلہ کیا کہ ایک آخری جنگ، فیصلہ کن جنگ کر لینی چاہئے چنانچہ اس نے تین لاکھ کی فوج بھیجی دمشق شام کی سرحدوں میں ہماری مسلمانوں کی کچھ چوکیاں تھیں خلیفہ وقت نے ان کو اکٹھا کر دیا ساری فوج جو ان علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی ان کو کہا کہ ایک جگہ اکٹھے ہو جاؤ سارے اکٹھے ہو کے وہ بنے چالیس ہزار اور ان سے جنگ کرنے کے لئے ان کو ختم کرنے کے لئے تین لاکھ کی فوج ، جن میں چالیس ہزار کے قریب گھوڑ سوار فوج تھی ان کا مقابلہ ہو گیا اور اس میدان میں یہ تربیت یافتہ جنہوں نے اپنی ماؤں کے دودھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار اور جانثاری حاصل کی تھی لیکن اس وقت جانتے نہیں تھے انہوں نے اس میدان میں وہ اسلام کو ختم کرنے کے لئے آیا تھا ان کو حکم یہ تھا کہ جو یہ چھوٹے موٹے دستے تمہیں رستے میں ملیں گے ان کو ختم کر کے تم مدینے جاؤ اور ایک آدمی بھی زندہ نہ چھوڑ و ختم کر دو اسلام کو یہ روز روز کی لڑائیاں لڑنے کا کیا فائدہ لیکن آپ سارے کے سارے قریباً ختم ہو گئے۔وہ چالیس ہزار گھوڑ سوار فوج کا کہیں دستہ نہیں تھا۔تو یہ جو دعا جو قبول ہوئی اس کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرۃ کی میں نے بتایا ۱۵۱ تا ۱۵۴ آیات میں ہے وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرة : ۱۵۱) یہ آیات یہاں سے شروع ہوتی ہیں بتانے کے لئے کہ اسی دعا کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرۃ: ۱۵۱) اور تو جس جگہ سے بھی نکلے اپنی پوری توجہ مسجد حرام کی طرف پھیر دے وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُوْا وُجُوهَكُمْ شطرة (البقرۃ: ۱۵۱) اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے منہ اس کی طرف کیا کرو فَوَنُوْا وُجُوهَكُمُ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمُ (البقرة:۱۵۱) تا ان لوگوں کے سوا جوان مخالفوں مرتکب ہوئے ہیں باقی لوگوں کی طرف سے تم پر الزام نہ رہے۔الزام ایک