خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 412
خطابات ناصر جلد دوم ۴۱۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء ہاتھ میں ہم قرآن کریم کی برکتیں پہنچا سکتے ہیں اُن سے فائدہ اٹھانا نہ اُٹھانا پھر اُن کا کام ہوگا اور انشاء اللہ میں آپ کے پاس آؤں گا خطبوں کے ذریعہ اس کے سلسلہ میں بھی۔میں نے صد سالہ جو بلی کا جب اعلان کیا اُس وقت جو میرے دماغ میں خیال تھا اس کے مطابق اعلان کیا جب خدا تعالیٰ میرے فیصلہ کو ٹھکرا کے ردی کاغذ کی طرح پھاڑ کے پرے پھینک دے نا ، تو اتنی خوشی ہوتی ہے مجھے کہ کوئی حد نہیں اور میں بتاتا ہوں کیوں خوشی ہوتی ہے میرا اندازہ تھا اور بڑے ڈر ڈر کے میں نے اعلان کیا کہ دو کروڑ پچاس لاکھ روپیہ اگلے پندرہ سال میں جمع کر دے جماعت تا کہ ہم آنے والی غلبہ اسلام کی صدی کا شایانِ شان استقبال کر سکیں۔مگر جو وعدے ہوئے وہ نو کروڑ بانوے لاکھ کے یعنی قریباً دس کروڑ کے وعدے ہو گئے۔میں نے کہا تھا ابھی دس سال رہتے ہیں اُس زمانہ میں کہ پندرہ سال تک اڑھائی کروڑ جمع کر دو اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جو وصولی ہو چکی ہے وہ قریباً دو کروڑ انیس لاکھ روپے کی۔یعنی قریباً قریباً اتنی جو میں نے سارے زمانہ کے لئے اعلان کیا تھا۔اس کا سارا کام جو ہے حساب وغیرہ رکھنا، تحریکیں کرنا، بہت کم اس کے اوپر خرچ کر رہے ہیں۔کوئی سیکریٹریٹ نہیں بنایا صد سالہ جو بلی نے جو تیاری کرنی تھی استقبال کے اگلی صدی کی اُس کے کئی کام میں نے اُس وقت اعلان بھی کئے تھے۔کئی نئے مشن وغیرہ۔ایک تو جو ہمیں پھل ملا خدا کے فضل اور اُس کی رحمت سے اس تحریک سے پہلا پھل تو سویڈن میں گوٹن برگ میں ایک نہایت خوبصورت مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر اس فنڈ سے کی گئی۔یہ ایک چوٹی پر ہے گوٹن برگ کی اور قریباً سوائے اس کے کہ بعض حصے پہاڑوں کی اوٹ میں آئے ہوئے ہیں باقی سارے شہر سے مسجد نظر آتی ہے رات کو دن کو بھی رات کی بجلیاں نظر آتی ہیں اور وہ سارا شہر اس مسجد سے نظر آتا ہے۔پھر جب یہ ایک جگہ بن گئی جہاں خطبہ ہوتا ہے جہاں لوگ اکٹھے ہوتے تھے۔جہاں لائبریری ہوتی تھی جہاں لوگوں نے آنا شروع کر دیا تو ایک سلسلہ بیعتوں کا شروع ہو گیا اور مختلف ممالک کے لوگوں نے گوٹن برگ کے مشن ہاؤس میں آ کر جو صد سالہ جو بلی فنڈ سے اور اُس منصوبہ کے ماتحت بنی تھی وہاں آ کے احمدیت کو قبول کرنا شروع کیا اور قربانیاں دینی شروع کیں۔