خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 386
خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۶ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۹ء باتیں بھی ہیں جو کرنے والی۔معانقہ تو ایک چھوٹی سی چیز ہے۔ملیں باتیں کریں، حالات پوچھیں، سنیں ، اپنی سنائیں ایک بین الاقوامی برادری کی ابتداء ہو چکی جو پیشگوئی کی گئی تھی آخری زمانہ میں نوع انسانی کو امت واحدہ بنادیا جائے گا۔اس کی بنیاد رکھ دی گئی۔اس کے چھوٹے چھوٹے نظارے یہ تو درست ہے لیکن اس کا نظارہ ہمیں نظر آ رہا ہے اس بنیاد کا۔کالے اور گورے میں کوئی فرق نہیں رہا۔مشرق اور مغرب میں کوئی دوری نہیں رہی۔کوئی نفرت نہیں رہی۔آپس میں کوئی حقارت نہیں رہی۔ہر ایک دوسرے کی عزت کرنے والا ، دوسرے سے پیار کرنے والا ، دوسرے کا احترام کرنے والا ، دوسرے کی خاطر تکلیف اٹھانے والا اور ایثار اور قربانی پیش کرنے والا بن گیا۔عجیب انقلاب عظیم نوع انسانی کی زندگی میں بپا ہو چکا۔ابھی ابتداء ہے سارے ہی عظیم انقلابات کی ابتداء چھوٹے پیمانے سے شروع ہوتی ہے۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلاب عظیم تو اتنا بڑا ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا اتنا بڑا انقلاب دنیا میں بپاہی نہیں ہوا۔(نعرے) اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی تھی کہ تیرے ذریعہ سے میں نوع انسانی کوامت واحدہ بنادوں گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ بشارت دی تھی کہ میرا ایک فدائی آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور وہ زمانہ ہوگا نوع انسانی کو امت واحدہ بنانے کا۔وہ فدائی پیدا ہو چکا وہ زمانہ آ گیا۔اب میرا اور آپ کا کام ہے کہ اس حقیقت کو پہچانیں اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر اس مطالبہ کو پورا کریں جو یہ انقلاب ہم سے کر رہا ہے۔یہ معمولی انقلاب نہیں ہے دنیا کے دل کو بدلنا، ان قوموں کے دلوں کو بدلنا جو آج خدا کو پہنچانتیں نہیں اور خدا کے مقابلہ میں استکبار اور ابا کو اختیار کرنے والی اور بغاوت کرنے والی اور دعویٰ کرنے والی ہیں کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹادیں گے۔ان کے دل بھی ہم نے جیتنے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور خدائے واحد و یگانہ کے جھنڈے تلے جمع کرنے کے لئے۔بڑی ذمہ داری ہے ہم پر۔اور جب میں سوچتا ہوں لرز جاتا ہوں اور اس کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ خدا مجھ سے کہتا ہے تیرے پاس ایک ذرہ ہے۔ایک ذرہ میرے حضور پیش کر دے۔باقی سارے کام میں کر دوں گا تمہارے۔اس کام کے لئے ایسی باتوں کو سننے کے لئے اس قسم کے عزم کرنے کے لئے۔اپنی ہمتوں کو