خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 377

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء دلوں کو جیت کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالنا چاہئے۔اس واسطے میں نے کہا کہ میں تو تھوڑے سے ہم نے کام کیا ہے اور اس واسطے کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے گا انشاء اللہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اور ہم جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نوع انسانی سے یہ وعدہ کیا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک وقت ایسا آئے گا جب میں شیطان کے پنجہ سے تمہیں نجات دلا ؤں گا اپنے مہدی اپنے محمد کے مہدی کے ذریعہ سے اور پھر تم میرے پیار کو حاصل کرو گے اور شیطانی وساوس اور شیطان کے ہر حملہ سے محفوظ کر دیئے جاؤ گے۔انشاء اللہ وہ دن آئیں گے ضرور آئیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کی باتیں تو پوری ہو کر رہتی ہیں۔یہ تو قضاء وقد ر ہے۔آپ کو ہی یہ کہتا ہوں اے میرے بچو اور جوانو! کہ ہر کام کے لئے بشاشت کی بنیاد علم ہے علم کی وجہ سے بشاشت پیدا ہوتی ہے۔اگر آپ کو یہ پتہ ہی نہ ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پیار سے مہدی کا ذکر کیا تو آپ کے دل میں بشاشت نہیں پیدا ہوگی لیکن اگر آپ کا ذہن اگر کسی صبح جب خالی الذہن ہوں آپ۔یہ سوچیں کہ کتنا پیار کیا ہے محمد نے اپنے بیٹے مہدی سے کہ ان الفاظ میں اس پیار کا اظہار کیا ان لـمـهـدينا أيتين (ســـن الـدار القطني كتاب العيدين باب صفة صلاة الخسوف والكسوف ) کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان خدا نے مقرر کئے ہیں اور اس پیار میں ساتھ یہ کہا کہ خدا کو بھی وہ پیارا ہے اور کہا کہ جب سے دنیا بنی اور رہتی دنیا تک کسی اور مدعی کے لئے یہ نشان اس کی صداقت کا مقررنہیں کیا گیا۔مہدی منفرد ہے اس نشان کے اندر۔(نعرے) خدا تعالیٰ کے اس پیار کی تیز شعاعیں اتنی تیز تھیں کہ جس وقت وہ دُنیا پر ظاہر ہوئیں۔خدا تعالیٰ کا پیار تو چاند کی روشنی بھی مدہم پڑ گئی اور سورج کی شعاعوں نے بھی روشنی دینی بند کر دی اور کسوف اور خسوف کا معجزہ جو تھا وہ ظاہر ہو گیا۔( نعرہ ہائے تکبیر ) انشاء اللہ تعالیٰ میں ایسا انتظام کروں گا کہ یہ جو میں نے دوسو کے قریب حوالے اور اور بھی اگر کوئی مل گئے تو وہ زائد کر کے نوجوانوں اور بچوں نئے احمدیوں اور پرانوں، ریفریشر کورس کے طور پر ان کے سامنے رکھے جائیں۔وہ پڑھیں اور دیکھیں کس کس طرح خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے پیار کا اور اعتماد کا اظہار کیا ہے مہدی کے متعلق۔ایک حدیث میں ہے کہ میری بعثت کی غرض ( کل بھی میں نے بتایا تھا ) صلیبی عقائد کو غلط ثابت کرنا ہے اور حقیقت کو جو اس ہر دو جہان کی جو بنیادی حقیقت ہے وہ وحدانیت باری تعالیٰ ہے اس کو قائم کرنا ہے اور پھر خود ہی آپ نے یہ کہا