خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 373

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء لکھتے ہیں کہ وہ ابھی اپنے کمال حقیقی کو نہیں پہنچی تھی روح ان کی اس واسطے خدا تعالیٰ نے ایک بروز کی شکل میں مسیح کو یعنی ان کی خوبو کے ساتھ اور اس کام کے لئے جو انہوں نے کرنا تھا تا کہ ان کے اوپر سے داغ ناکامی جو ہے وہ مٹ جائے ان کو بروز کی شکل میں آنے والے مہدی ہی ان کا وہ دوبارہ آئے اپنے پہلے جسم کے ساتھ نہیں۔اس لئے وہ لکھتے ہیں وہ ابھی اپنے کمال حقیقی کو نہیں پہنچا اس لئے ضروری ہوا کہ وہ آخری زمانہ میں فقرہ سنیں غور سے، اس لئے ضروری ہوا کہ وہ آخری زمانہ میں کسی اور بدن کے ساتھ نازل ہوگی۔پہلے بدن کے ساتھ آئیں گے ہی نہیں۔پہلے بدن کے ساتھ نہ گئے۔کیونکہ انہوں نے لکھا ہے کہ رفع عیسی یہ ہے کہ روح چلی گئی اوپر۔نہ پہلے بدن کے ساتھ آسمانوں پر گئے نہ پہلے بدن کے ساتھ انہوں نے واپس آنا ہے بلکہ ضروری ہوا کہ وہ آخر زمانہ میں کسی اور بدن کے ساتھ نازل ہوگی اور آخر زمانہ میں روح عیسوی مهدی محمدی، محمد مہدی کی روح میں بروز کی شکل میں وہ ظاہر ہوئی اور محمد مہدی کے سپرد یہ کام ہوا کہ وہ داغ جو حضرت مسیح کی رسالت پر ان تثلیث کے ماننے والوں نے قائم کیا تھا اس کو اپنی کامیاب دعاؤں اور عاجزانہ تضرعات کے ساتھ دھو ڈالیں اور ساری دنیا سے کفر والحاد اور شرک کی تعلیم کو مٹا کر اسلام کی خالص تو حید قائم کریں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ساری دنیا کے دل میں ڈالیں تا کہ یہ سرخرو ہو سکیں۔ان کی روح جو ہے وہ بے چین جو ہے۔یہ ہم محاور ے بولتے ہیں اس سے ایک صوفی زیادہ اچھی طرح سمجھتا ہے غیر صوفی کی نسبت۔: جیسا کہ میں نے بتایا ایک کتاب ہے المستدرک للحاکم۔اس میں انہوں نے یہ روایت بیان کی ہے کہ لا مهدی الا عیسی ابن مریم(المستدرک جزء ۴ صفحه ۴۴۱) اور اسی طرح یہی لا مهدى الا عيسى ابن مريم يه سنن ابن ماجہ میں ہے اور ایک اور روایت میں ہے۔وہ کاغذ علیحدہ شاید میں نے کہا نہیں غلطی ہو گئی اس میں یہ الفاظ اس طرح نہیں ہیں لا مهدی الا عيسى اس میں یہ ہے : ”المهدی هو عیسی (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدة الزمان ) کہ مہدی ہی عیسی ہوگا۔تو بڑا واضح کر کے یہ پہلوں نے یہ مسئلہ صاف کیا ہوا ہے۔ہم اگر بھولنے کی کوشش کریں تو نہیں کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ ہمیں میں تو آپ سے مخاطب ہوں نا۔ہمیں احمدی بچے اور جوان جو میری تعریف میں جو میں نے ابھی کی تھی ان کو ہی مخاطب ہوں۔تو ہمیں بھولنا نہیں چاہئے۔یہ