خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 372

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء بادشاہوں نے ظلم کر کے ان کو وہاں سے بکھیر دیا تھا اور کشمیر اور ہندوستان اور افغانستان اور ایران کے مختلف مقامات پر وہ دس قبائل بارہ میں سے۔بارہ میں سے دس قبیلے یروشلم میں نہیں تھے جس وقت حضرت مسیح مبعوث ہوئے ہیں تو وہاں وہ جب گئے تو انہوں نے دو بڑے زبر دست کام کئے ایک یہ کہ انہوں نے جو یہودی یہ دس قبائل شریعت موسوی کو چھوڑ چکے تھے ان میں تبلیغ کی اور اپنی رسالت منوائی اور شریعت موسوی کی طرف ان کو واپس لے کر آئے۔ان میں سے بعض تو بدعات کا شکار ہو گئے تھے۔دہریت کا شکار ہو گئے تھے کچھ بدھ مذہب اختیار کرنے والے تھے۔کچھ ہندو ہو گئے تھے بت پرستی کرنے والے یعنی جن میں ہزاروں انبیاء آئے تھے وہ خدائے واحد کو چھوڑ کر وہ بت پرستی کی طرف چلے گئے تھے یعنی یہ تاریخ سے ثابت ہے جو میں آپ کے سامنے باتیں رکھتا ہوں۔یہ وہاں گئے۔انہوں نے تبلیغ کی ۹۰ سال ۸۷ سال کے قریب اور خدا تعالیٰ نے برکت ڈالی اور ان کو پھر واپس شریعت موسویہ کی طرف لے کے آئے۔اکثر کو کچھ رہ گئے بیچ میں خاندان اور موسوی شریعت کی طرف یہ آئے۔خدا تعالیٰ کی واحدانیت پر ان کو انہوں نے قائم کیا۔دوسرا کام ان کا یہ تھا کہ چونکہ یہ بنی اسرائیل میں آخری رسول تھے اور ان کے بعد رسالت بنو اسحاق سے منتقل ہو کر بنی اسماعیل کی طرف محمدصلی اللہ علیہ وسلم جیسے وجود میں ظاہر ہوئی تھی اور اس سے یہ خطرہ تھا کہ وہ محروم نہ ہو جائیں یہ کیا ہو گیا کہ ہم سے رسالت چھن گئی اور دوسرے بیٹے کی اولا دکو چلی گئی اس واسطے ان کے ذہنوں کو تیار کیا کہ جب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہو تم ان پر ایمان لے آنا اور ان کو قبول کر لینا اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ کی تبلیغ ان علاقوں میں پہنچی تو بہت جلد ان لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔بڑے تھوڑے عرصہ میں یہ مسلمان ہو گئے لوگ اور وہ اثر تھا حضرت مسیح علیہ السلام کی تربیت کا۔یہ تو ان کا وہ پہلو ہے جس میں وہ کامیاب ہوئے لیکن دوسرا پہلو جو داغ لگانے والا ہے ان کی رسالت پر اور اس بات پر کہ انہوں نے خیر و برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے تو اس لئے حاصل کی تھی کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کریں لیکن ایک دنیا کو ان کے دوسرے حصہ ماننے والوں نے تثلیث کا قائل کر دیا اور ایک قسم کی بت پرستی شروع کر دی اور خدائے واحد و یگانہ سے بیزار کر دیا۔تو اس لحاظ سے یہ ہیں یعنی جو میں نے سوچا ہے ان کا دماغ اس طرف گیا ہے اور وہ