خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 361
خطابات ناصر جلد دوم ۳۶۱ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء کے اندر داخل ہوتا پھر وہ آگے جائے گا پھر سمندر پار کرے گا پھر امریکہ میں پہنچے گا۔اس کے لئے ضرورت تھی بہت سی باتوں کی جن کا ذکر کیا گیا تھا کہ اس زمانہ میں وہ ایجادات ہو جائیں گی جیسے کہ ریڈیو ہو گیا۔تار ہو گئی اور ٹیلیکس ہو گئے اب۔بڑی بڑی خبریں ہم بھیج دیتے ہیں۔کتب کی اشاعت جو ہے وہ ممکن ہوگئی۔ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے ذرا قبل کہ جب بعض لوگوں کی یہ روایت ہے کہ ایسے دوست بھی تھے ہمارے اس ملک میں یعنی جو اس وقت متحدہ ہندوستان تھا کہ جن کے دل میں شدت سے یہ آرزو تھی کہ ایک دفعہ مرنے سے پہلے صحیح بخاری پر نظر پڑ جائے ہماری۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات جہاں جمع ہیں وہ آپ کے ارشادات ہم دیکھ سکیں لیکن ان کی یہ حسرت اور یہ آرزو پوری نہیں ہوئی اور بغیر دیکھے کے وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے لیکن اب یہ ہے کہ اگر ایک جگہ کتاب چھپے اور انتظام ہو تو میرا خیال ہے کہ ۴۸ گھنٹے کے اندر اندر وہ دنیا کے ہر ملک میں پہنچائی جاسکتی ہے۔اس انتظام کے بغیر کسی ایسے شخص کا خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو جانا جس کا پیغام یا جس نے اسلام کا پیغام ساری دنیا میں پھیلانا تھا، یہ عبث بن جاتا۔تو اس واسطے آخری زمانہ کی علامات اور آخری زمانہ میں آنے والے مہدی معہود جو ہیں، وہ ایک ہی زمانہ سے ان کا تعلق ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔یعنی مہدی نے ان واقعات سے فائدہ اٹھانا تھا یا مہدی کی صداقت پر ان واقعات نے دلیل ہونا تھا جیسا کہ چاند اور سورج کا گرہن ہونا اور ان ایجادات اور جو انقلابی تبدیلیاں انسانی زندگی میں آنی تھیں انہوں نے بطور خادم کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں کے لئے کام کرنا تھا تا کہ اسلام کا نور دنیا میں پھیلایا جا سکے۔بیسیوں ، بیسیوں ایسی خبریں آخری زمانہ کے متعلق قرآن کریم نے دی ہیں میں نے مختصر آلی ہیں اور اکثر حصہ جو میں نے پڑھا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔بیچ میں کہیں میں نے تشریح کر دی ہے۔یعنی آپ نے بیان کیا ہے۔پھرا حادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مہدی معہود کا بڑی کثرت سے ذکر کیا ہے اور جب ہم راویوں کو دیکھتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ثقہ راوی مہدی کی باتیں کرتے ہیں۔حضرت انس بن مالک کرتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔حضرت ثوبان