خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 341 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 341

خطابات ناصر جلد دوم ۳۴۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء میں زندہ ہوں خدا کے فضل سے تو بعد میں تاریخ بنتی ہے دیکھیں کیا بنتی ہے تاریخ دان کیا کہتا ہے تو یت یہ وہاں کے لئے اور یہاں بھی اگر دیکھیں گے یہاں بھی آپ کو مل جائے ، چاہے یہیں چھپے۔لندن کا نفرنس میں جو مقالے پڑھے گئے تھے جن میں چیکو سلا و یکیہ اور کشمیر اور انگلستان اور سپین ان ممالک کے تھے اور ہمارے احمدی امریکہ سے ایک آئے اور چوہدری صاحب تھے اور مشنری انچارج بشیر احمد خاں رفیق تھے اور ایم۔ایم احمد ان کا مضمون بڑا اچھا تھا سارے ہی اچھے ہیں مضمون اور سب سے آخر میں ایڈریس میں نے کیا تھا۔اس کا نفرنس میں ان سب کو اکٹھی کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا۔یہ آ گئی ہے مارکیٹ میں چھپ گئی ہے۔پاکستان میں زیادہ نہیں آئی چند کا پیاں ہیں کچھ دو ایک لے آیا تھا کچھ اور اب ملی ہیں تو جو دور دراز کے ممالک ہیں ان کو میرا دل کرتا ہے کوئی ایک ایک کاپی بھجواد میں قبل اس کے کہ وہاں انگلستان سے پہنچے اور انگلستان میں دس مضامین پر اکہتر ہزار پمفلٹ شائع کر کے زیادہ تر لندن میں دوسرے حصوں میں بھی تقسیم کئے ہیں۔اچھا پولینڈ میں نئی جماعت قائم ہوئی ہے۔اور وہاں جماعت احمدیہ کے عقائد اور تعارف پر اس وقت تک پولش زبان میں دو پمفلٹ چھپ چکے ہیں امریکہ نے مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا مضمون My faith اور پمفلٹ What is Islam اور پمفلٹ۔Reasons why Islam should be prefered یہ امریکہ نے پانچ ، پانچ۔دس، دس ہزار کی تعداد میں شائع کئے ہیں جاپان ٹائمز کی ۱۸ اکتوبر کی اشاعت میں حج اور عید کے بارہ میں ہمارے احمدی مبلغ کا لکھا ہوا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔اسی طرح ریڈیو پہ وقت مل رہا ہے ساری دنیا میں بہت سارے ممالک میں ہمارے احمدیوں کو۔اور سالانہ جلسے ہر جگہ ہو رہے ہیں اور سیرت النبی اور مذاہب کے پیشوایان مذاہب کا جلسہ یہ ہر جگہ ہو رہا ہے بڑا کامیاب ہو رہا ہے اور ہمارے جو سکول وہاں ہیں ان ملکوں میں مثلاً گیمبیا میں ہمارے سکول کی تقریب میں خودصد رمملکت آئے اور ان کے ساتھ وزیر بھی تھے اور بڑی تعریف کی کہ بڑی خدمت کر رہے ہو ( ایک نوجوان نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نعرہ لگایا تو حضور نے فرمایا: گیمبیا میں وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نہیں ، سویلین ہیڈ آف داسٹیٹ ہیں اس نے پھر صدر پاکستان کا نعرہ لگایا تو حضور نے فرمایا: نہیں نعرے نہیں لگانے بھئی ٹھہر و۔)