خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 22

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء پیش کرنا پڑتا ہے۔ہمیں اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کرنی پڑتی ہیں۔ہمیں اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور آپ کے حسن و احسان کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ویسے تو میں نے بتایا تھا کہ ہمارا مرکز تو یہاں سے نہیں جاسکتا لیکن اس مرکز کے فدائی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لئے ملک ملک میں جاتے ہیں اور وہاں آپ کے پیار اور آپ کے حسن و احسان کو دُنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اتنی رحمت کرنے والا ہے کہ سیرالیون کے ایک وزیر جواچھے پایہ کے انسان ہیں۔لاہور میں سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے ابھی پچھلے مہینے جماعت احمدیہ کی طرف سے سیرالیون میں قائم کردہ ایک ہسپتال کا معائنہ کیا۔ہسپتال کی عمارت کو دیکھا تو جماعت کی خدمات کو بہت سراہا اور کہا جماعت احمد یہ دُنیا میں اسلام کی سر بلندی کے لئے جو جد و جہد کر رہی ہے اس کو دیکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ واقعی اسلام دُنیا پر غالب آ جائے گا۔غرض یہ پس منظر ہے ہماری زندگی اور ہماری کوششوں کا اس حالت میں کہ جماعت احمدیہ کے علاوہ اس وقت دنیا کے دُکھ درد کو دور کرنے کے تین اور دعویدار بھی ہیں مگر یہ وعدہ کہ دُنیا امت واحدہ بن جائے گی ظاہر ہے کہ یہ وعدہ صرف ایک کے حق میں پورا ہونا ہے ورنہ یہ کہنا کہ ہر ایک کے حق میں دُنیا اکٹھی بھی ہو جائے اور ایک خاندان اور امت واحدہ بھی بن جائے اور پھر چاروں میں تقسیم بھی ہو جائے عقلاً ممکن نہیں ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک قاضی کے پاس ایک ایسے بچے کا مقدمہ آیا جس کے متعلق دو عورتیں دعویدار تھیں۔دونوں ہی کہتی تھیں کہ یہ بچہ میرا ہے یہ مجھے دیا جائے۔قاضی صاحب بڑے سمجھدار، متقی اور پر ہیز گار انسان تھے۔انہوں نے گواہیاں مانگیں گواہیاں آگئیں۔دونوں کے حق میں ایک جیسی مضبوط اور معتبر گواہیاں تھیں۔ایک کہے میں فاطمہ ہوں۔یہ میرا بچہ ہے دوسری کہے میں خولہ ہوں یہ میرا بچہ ہے ( نام میں نے مثال کے طور پر دیئے ہیں ) قاضی صاحب کو کچھ پتہ نہ لگے کہ وہ کریں تو کیا کریں۔کس کے حق میں فیصلہ دیں۔کیونکہ دونوں عورتوں کے حق میں معتبر گواہیاں تھیں۔آخر خدا تعالیٰ نے قاضی کی رہنمائی فرمائی۔جب وہ ایک دن پھر قضاء کی کرسی پر بیٹھا تو اس نے دونوں عورتوں کو بلایا اور اُن سے کہا میں نے بہت سوچا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا