خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 276
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہستیوں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تفسیر بنائی اور انہوں نے ہمارے سامنے اس تفسیر کو رکھا اس سلسلہ میں ، میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک آدھ اقتباس پڑھ کے سناؤں گا ابھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ مدعا جو خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں بیان فرماتا ہے کہ کیوں انسان کو پیدا کیا ، وہ مدعا جو خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں بیان فرماتا ہے یہ ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الثریت : ۵۷) یعنی میں نے جن اور انسان کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جاتا ہے بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے۔خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلاشبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ پرستش البہی ایک فطرتی عمل ہے پس جب تو حید الہی اور پرستش الہی سب بنی آدم کے لئے فطرتی عمل ہوا اور کوئی آدمی سرکشی اور بے ایمانی کے لیے پیدا نہ کیا گیا تو پھر جو امور بر خلاف خدا دانی و خدا ترسی ہیں کیونکر فطرتی عمل ہو سکتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں جن اور انس کی پیدائش اور ان کی تمام قوای کا میں ہی مقصود ہوں۔ان کی تمام قوای کا میں ہی مقصود ہوں، وہ اسی لئے میں نے پیدا کئے کہ تا مجھے پہچانیں اور میری عبادت کریں تو اس نے اس آیت میں اشارہ کیا کہ جن وانس کی خلقت میں اس کی طلب معرفت اور اطاعت کا مادہ رکھا گیا ہے۔اگر انسان میں یہ مادہ نہ ہوتا تو نہ دنیا میں ہوا پرستی ہوتی ، نہ بت پرستی نہ انسان پرستی کیونکہ ہر یک خطا ثواب کی تلاش میں پیدا ہوتی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود مع اپنی باطنی و ظاہری قوالی کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جائے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اس معطلی تحقیقی کو واپس کی جائیں۔اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینے میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری