خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 269

خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء سے ایک چھوٹی سی جماعت ایک دو آدمی آئیں وہ تفقہ فی الدین تا که تفقه في الدين حاصل کریں اور اپنی قوم کو جا کے پھر برائیوں سے روکنے والے ہوں اور نیکیوں کی طرف بلانے والے ہوں۔اس آیت پر میں نے جو یہاں نوٹ کی اس کے لئے پھر اس نے میرے دماغ میں یہی تھا کہ میں نے رضا کار معلمین ہزاروں کے لئے بنایا تو میری توجہ ایک اور بڑے لطیف علم کی طرف جیسا بیان ہوا ہوگئی کہ اس آیت میں جس میں دین سیکھنے کی طرف بلایا گیا ہے، نہ ملکہ کا نام لیا گیا ہے دین سیکھنے کی جگہ کے طور پر نہ مدینہ کا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مکہ اور مدینہ میں دین سیکھا نہیں جانا، یہ بنیادی گڑھ ہیں ، بنیادی مدارس ہیں بنیادی ماحول ہے دین کے سیکھنے کا اس میں کوئی شک نہیں مکہ اور مدینہ جو ہے وہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب اسلام پھیل جائے گا ساری دنیا میں تو اس قسم کے جو گروہ جنہوں نے دین سیکھنے کی خاطر تفقہ فی الدین کے حصول کے لئے ایسی جگہوں پر جانا ہوگا جہاں ان کو دین حاصل ہو جائے وہ مکے کے پیٹرن پر اس کی مثال کے طور پر بہت ساری جگہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے ایسے ہوں گے جو دین اسلام سکھانے والے ہوں اس واسطے وہ وہاں جائیں اس لئے کسی جگہ کا نام نہیں دیا گیا اور بتا دیا گیا کہ ایسی جگہ لاکھوں ہوسکتی ہیں کروڑوں ہوسکتی ہیں ایک وقت میں لیکن جہاں بھی موزوں جگہ اور قریب جگہ اور سہولت کی جگہ ہو کیونکہ اسلام نے کوئی سختی نہیں کی۔وہاں تم جاؤ اور دین سیکھو یہ ضروری نہیں ہے کہ لاہور میں جاؤ ، ضروری نہیں ہے کہ سیالکوٹ میں جاؤ ، ضروری نہیں ہے کہ پنڈی میں جاؤ، ڈسکہ میں بھی ایسا ایک آدمی ہوسکتا ہے جو دین کی باتیں سکھا سکتا ہے وہاں جاؤ تو لیکن کچھ لوگ ہم سہولت کے ساتھ یہاں بھی بنا لیتے ہیں۔مثلاً ہمارا مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ اب دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں جامعہ احمدیہ کے نام سے موسوم ہوتے ہیں وہ یہاں ہے لیکن جو بڑھتی ہوئی ضروریات مغربی افریقہ کی تھی وہ سارے بچے یہاں آ کے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے ان کے لئے بھی دقت اور ہمارے لئے بھی دقت ، اس لئے وہاں کچھ مدارس ایسے کھول دیئے گئے ہیں جہاں وہ دین کی باتیں سیکھتے ہیں اور اسلام اور تربیت کا وہ کام کرتے ہیں تو یہ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ یہ رستے کھلے ہیں مایوس نہ ہو جانا۔نصرت جہاں ریز روفنڈ ، پانی گرم کرنے کے وہ ہیں حمام بنائے ہوئے گیزر سوئی گیس کے اس میں ایک چھوٹا سا شعلہ ہوتا ہے جو ہر وقت جلتا رہتا ہے اور وہ آٹو میٹک ہے جس وقت پانی ٹھنڈا