خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 203

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء اس عالمین سے خدمت لینے کی قوتیں اور استعداد میں انسان کو دی گئی ہیں اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۱۲ دسمبر ۱۹۷۶ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج کی دنیا کا ایک حصہ علم اور سائنس میں بہت ترقی کر چکا ہے اور وہ ممالک جنہوں نے علمی اور سائنٹیفک تحقیق کی ہے اور علم کے میدانوں میں آگے نکلے ہیں وہ خود کو بڑا عقلمند اور مہذب کہتے ہیں اور شاید زبان پر تو وہ یہ بات نہ لاتے ہوں مگر باتیں کرتے کچھ اس طرح سے ہی ہیں کہ گویا وہ انسانوں سے کوئی بالا انسان ہیں جو اس دنیا میں بس رہے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے علمی اور سائنسی لحاظ سے اس قدر ترقی نہیں کی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور شاید انہیں نیم انسان سمجھتے ہیں اور وہ دنیا جس نے سائنس کے میدانوں میں اور علم کی دوڑ میں ترقی نہ کی اور آگے نہ بڑھے اس میں ایک بڑا حصہ ان لوگوں کا بھی ہے جو امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس مت مسلمہ کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو یہ یقین رکھتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرے گا اور وہ لوگ بھی جو اپنے زعم میں اپنی برتری کا یقین رکھتے ہیں انہیں یہ یقین دلایا جائے گا کہ ان کی عقلیں ان سے دعا کر گئیں اور ان کی حالت ایک پوری طرح صحت مند وجود کی نہیں بلکہ ایک ایسے جسم کی ہے جس کے اکثر حصہ پر فالج گرا ہوا ہے۔تاہم جو تھوڑا سا حصہ فالج سے بچا ہوا ہے وہ بڑا فعال اور کام کرنے والا ہے۔یہ جو پچھلا میں نے دورہ کیا ہے اس میں مختلف ممالک میں مجھے بڑے بڑے مدبروں سے اور محققوں سے اور عالموں سے اور پروفیسروں سے اور علوم کے ماہرین سے بات کرنے کا موقع ملا۔میں وہاں ان تک اسلام کا نور پہنچانے کے لئے گیا تھا۔اسلام کی صداقت اور حقانیت اور اسلام کی عظمت کی معرفت سے انہیں روشناس کرانے کے لئے گیا تھا ان کا اثر قبول کرنے کے لئے