خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 166
خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۶ افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء خدا تعالیٰ نے فضل فرمایا آپ یہاں پہنچ گئے۔بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جو روکیں پیدا ہو رہی ہیں اس کے نتیجہ میں شاید جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی لیکن وہ کانٹے جو راہوں پر بچھے ہوئے تھے۔انہوں نے آپ کو روکا نہیں آپ کے قدموں کو اور تیز کیا۔ضلع لا ہو رہی کی رپورٹ ہے ( باقی اضلاع میں بھی یہی ہوگا ) وہاں کی جماعت کے عہد یداران نے جائزہ لیا تو لوگوں نے کہا کہ پچھلے سال جو دوست رہ گئے تھے یا جتنے عام طور پر جلسہ سالانہ پر آتے ہیں اور ظاہر ہے جلسہ پر ایک حصہ ہی آتا ہے رپورٹ کرنے والے کے مطابق پچھلے سال سے سو فیصد زائد احمدی آنے کے لئے تیار ہیں۔پس کیا دوست ان کانٹوں کا شکوہ کریں گے جنہوں نے آپ کی رفتار کو اور تیز کر دیا۔ہم تو شکر ادا کرتے ہیں راہ کے ان کانٹوں کا اور راستے کی ان روکاوٹوں کا کہ انہوں نے اس محبت کے مظاہرے کے سامان پیدا کئے جو ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موجزن ہے۔پس ہماری یہ دعا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ کے متعلق جو دعائیں کی ہیں اپنی جماعت کے اس حصہ کے لئے جو یہاں آنے والے ہیں یا نہیں آنے والے اللہ تعالیٰ ہم سب کے حق میں وہ ساری ہی دعائیں قبول فرمائے اور ان کا ہمیں وارث بنائے اور آسمان سے فرشتوں کے نزول کے ساتھ ہماری نصرت اور مد دفرمائے اور اسلام کا یہ قافلہ زیادہ تیزی کے ساتھ شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے بڑھتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے ہم وارث ہوں ہماری عقلوں میں پہلے سے زیادہ جلا پیدا ہو، ان میں نور پیدا ہو، اس کائنات کو سمجھنے کی پہلے سے زیادہ ہمیں توفیق ملے اور کائنات کے سمجھنے کے بعد ہر دو جہان کو معلوم کر لینے کے بعد اس کی ماہیت اور کیفیت اور حقیقت کیا ہے اور رب العلمین کے بے شمار فضلوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لینے کے بعد ہمارے دلوں میں جس قدر محبت اور پیار پیدا ہونا چاہئے ، ہمارے پیدا کرنے والے رب کے لئے اس سے کم نہ پیدا ہو کسی صورت میں ، اور ہماری ہر روح اور ہمارا ہر دل اور ہمارا ہر فردا اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق خدا کی محبت سے بھر جائے اور لبریز ہو جائے اور اوور فلو (overflow) کر جائے اور