خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 165

خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۵ افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء کے اور جس نے صداقت اور ٹور کے یہ بول بولے اور دنیوی لحاظ سے وہ زندگی اور وہ عمر پائی جن کا فیضان قیامت تک ممتد ہے۔قرآن کریم نے ہمیں کہا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لحاظ سے تمہارے لئے اسوہ حسنہ بنایا۔معمور الاوقات ہونے کے لحاظ سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اُسوہ ہیں اور پھر آپ کے شاگردوں اور روحانی اولاد میں سے اس وقت مہدی علیہ السلام کا نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے دن رات کام کیا اور اس نے ہر زمانے کے لحاظ سے اتنا عظیم مجاہدہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے تابع ہو کر اور آپ کی محبت میں مست ہو کر اسلام کی بے مثال خدمت کی۔اتنا معمور تو میں نہیں کہہ سکتا جتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معمور الاوقات تھے لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قیامت تک کے لئے جن علوم کی ضرورت تھی اُن کی تفسیر یا اُن کا بیج اپنی تحریروں میں اور اپنی تقریروں میں آپ نے بتا دیا۔پس یہاں آپ کچھ سیکھنے کے لئے آتے ہیں اس لئے کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ سیکھیں یہاں آپ کچھ حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں پس کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔یہاں آپ کچھ پانے کے لئے آتے ہیں خدا کرے کہ آپ کو اتنامل کہ آپ کی جھولیاں بھر جائیں اور آپ کے لئے اُس کا سنبھالنا مشکل ہو جائے۔اس دفعہ بہت سی روکیں جماعت احمدیہ کے راستے میں حائل تھیں بعض وجوہات کی بناء پر اور بعض ضرورتوں کی خاطر حکومت وقت کی خواہش کو سمجھتے ہوئے اور اس کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہم نے جلسہ سالانہ کی تاریخوں کو اپنی جگہ سے بدلا اور ایسے وقت میں رکھا جب سکول کھلے ہیں کالج کھلے ہیں اور کراچی ، پشاور، لاہور اور سیالکوٹ وغیرہ میں ایسے بچے سکولوں میں ہیں جن کو اکیلا چھوڑ ا نہیں جاسکتا۔ان کی خاطر گھر والوں میں سے بہر حال کسی نہ کسی کو وہاں رہنا پڑے گا۔پھر جہاں تک راستے کا سوال ہے بڑی تکلیفیں اور بڑی بے آرامیاں اٹھا کر آپ میں سے ہزاروں دوست یہاں پہنچے۔لیکن میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کو منزل مل گئی آپ یہاں پہنچ گئے تو راہ کے کانٹوں کا کیا شکوہ۔