خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 156
خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۶ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۵ء انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کے لئے پیدا کیا تھا وہ اپنے پیار کرنے والے رب سے دور چلا گیا کسی نے تو یہ کہہ دیا کہ ہم خدا کو مانتے ہی نہیں، کوئی ایک قدم آگے گیا اور اس نے کہا ہم خدا کو نہیں مانتے اور جولوگ مانتے ہیں ان کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ (نعوذ باللہ ) زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے۔چنانچہ جب وہ چاند پر گئے تو مذاق میں کہہ دیا کہ وہاں کوئی خدا نظر نہیں آیا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو ستاروں کی جو ہے یعنی جہاں یہ ستارے ہیں اور رات کو چمکتے ہیں یہ پہلا آسمان ہے تو پہلے آسمان کے ورلے کناروں تک پہنچ کر یہ بڑہانک دی کہ ہم آسمانوں پر گئے تھے لیکن ہمیں کوئی خدا نظر نہیں آیا۔تمہیں آسمانوں پر جانے کی کیا ضرورت تھی تم اپنی شہ رگ کے پاس خدا کو تلاش کرتے وہ تمہیں وہاں مل جاتا لیکن عقل مند بعض دفعہ بے عقلی کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر حیرت ہوتی ہے کہ خود ہی اس نتیجہ پر پہنچنے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ جوستارے ہیں ان کے جو آخری حصے ہیں یعنی ستاروں کے آسمان کے، وہاں تک ان کی بڑی سے بڑی دور بینیں بھی نہیں دیکھ سکتیں حالانکہ انہوں نے اس غرض کے لئے بڑی زبر دست دور بینیں بنارکھی ہیں مگر دعوے اس قسم کے کر دیتے ہیں جو ہنسی اور مذاق ہے اور بس۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان کو بھی بہر حال اپنے پیار کے لئے پیدا کیا ہے اور خدا یہ نہیں چاہتا کہ وہ اس کے قہر کی جہنم میں جائیں اس لئے ہمارا یہ کام ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں ہم روس میں بسنے والے ان دھر یہ انسانوں کے لئے بھی دعا کریں جو خدا کے نام کو زمین سے اور اس کے وجود کو آسمانوں سے مٹانے کا دعوی کرتے ہیں ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معقل بھی دے اور ہدایت بھی دے۔پھر سرمایہ دارانہ ممالک ہیں جن کے معاشرہ میں اتنا گند اور اتنا تنگ آچکا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے دوست دعا کریں، اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس گندگی اور پلیدی سے بچائے۔اسلام نے طہارت اور پاکیزگی کی جو تعلیم دی ہے وہ اس سے روشناس ہوں اور اپنی زندگیوں کو ضائع نہ کریں کیونکہ جو زندگی اس دنیا میں ضائع ہوگئی ظاہر ہے دوسری دنیا میں بھی اس نے خدا کے پیار کو حاصل نہ کیا تو پھر وہ تو ہلاک ہی ہوگئی اس دنیا کے جو چند سال ہیں ان کے مقابلہ میں وہ ابدی زندگی جس کا وعدہ دیا گیا ہے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں دنیوی زندگی تو اتنی مختصر ہے گویا آپ کا یہاں سے اٹھنے کے بعد اپنی قیام گاہوں تک جانے پر جو مختصر سا وقت لگتا ہے اتنا بھی نہیں۔پس دنیوی زندگی