خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 151 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 151

خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۱ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ہیں وہ ہمارے راستے میں بہت سی روکیں پیدا کر دیں گی۔اس وقت یہ صیح ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ آسمان سے فرشتے زمین پر آکر خدا تعالیٰ کے کلام کو غالب کرنے کی سعی نہیں کرتے اس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسان پر ڈالی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کے پھیلنے کی اور اسلامی تعلیم کے غالب آنے کی بشارتیں دی گئیں۔تو اس وقت مخالف طاقتوں نے مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے کے لئے میان سے جو تلوار نکالی تو ان ہاتھوں کو جن میں مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے کے لئے تلواریں تھیں فرشتوں نے آکر نہیں کا ٹا تھا بلکہ وہ نہتے اور غریب مسلمان تھے جن کے پاس تن ڈھانکنے کے لئے کپڑے نہیں تھے۔وہ میدان جہاد میں آئے تھے ان کے کپڑوں کا یہ حال تھا اور ان کی کس مپرسی کی یہ حالت تھی کہ جب مرد سجدے میں جاتے تھے تو چونکہ گھٹنوں سے اوپر انہوں نے دھوتیاں باندھی ہوئی ہوتی تھیں۔دھوتی کیا بس دو گز کا ایک کپڑا باندھا ہوتا تھاوہ سجدہ کرتے تھے تو ننگے ہو جاتے تھے اور عورتیں پچھلی صف میں ہوتی تھیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا مرد جب سجدہ سے سر اٹھا لیں پھر تم سجدوں سے سر اٹھایا کرو۔پس ان کی غربت کی یہ حالت تھی لیکن جب مخالف اسلام طاقتوں نے کہا کہ ہم تلوار کے زور سے اسلامی تعلیم کو دنیا سے مٹا دیں گے تو ان ہی غریبوں اور مسکینوں نے کہا ہمارے ہاتھ میں کند تلواریں ہیں یہ تو درست ہے لیکن تمہاری تلوار کی دھار اسلام کے اوپر تب پڑے گی جب ہماری گردنیں کٹ چکی ہوں گی اور وہ میدان میں آگئے اور مقابلہ میں آگئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی فرشتوں کے ذریعہ جیسا کہ مختلف جگہوں کے متعلق ہماری تاریخ نے ان حفاظتوں کو محفوظ رکھا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح کبھی یہ نہ کہیں کہ جا تو اور تیرا رب اپنے دشمنوں سے لڑتے پھرو ہم تو یہاں دھر نا مار کر بیٹھے ہیں۔اس لئے کہ ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور خدا نے ہمیں مہدی علیہ السلام کے ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اس وقت وہ تمام طاقتیں جو دنیا میں فحش کو پھیلا کر اور جو دنیا میں بداخلاقی کو پھیلا کر اور جو انسان کو وحشی بنا کر اسلام کے خلاف کھڑی ہو رہی ہیں۔ان وحشی انسانوں کو اور وحشی گرانسانوں کو تم نے انسان بنانا ہے اور با اخلاق انسان بنانا ہے اور با اخلاق انسان کے بعد با خدا انسان بنانا ہے۔یہ جماعت احمدیہ کی