خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 125
خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء جو ہم نے وہاں سکولوں اور ہسپتالوں کی بنائیں اور اس آپریٹیس پر خرچ ہوا اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور سکول ٹیچر ز کی تنخواہوں پر جو خرچ ہوا وہ بھی اس میں شامل ہے۔وہاں سولہ ہسپتال ہیں جن میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی پوری عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں اور باقی ہسپتالوں کی عمارتیں بھی آہستہ آہستہ بن رہی ہیں۔اللہ میاں پیسے دیتا جا رہا ہے۔اُن لوگوں کو یہ پتہ ہے جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ جب پادری وہاں گیا تو وہ ان کی دولتیں لوٹ کر واپس لے آیا لیکن جب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ادنی غلام وہاں پہنچے تو وہ باہر سے بھی ان کے پاس روپیہ لے کر گئے اور جو کچھ انہوں نے وہاں کمایا تھا وہ بھی انہی پر خرچ کر دیا ایک دھیلہ بھی وہاں سے باہر لے کر نہیں گئے اور یہ مبالغہ نہیں ہے۔ایک دھیلے کی رقم بھی جماعت احمدیہ نے ان ممالک سے باہر نہیں نکالی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام بھی ہم سے پیار کرتے ہیں اور وہاں کی حکومتیں بھی ہمیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور یہ اللہ کا فضل ہے یہ کوئی میری اور تیری خوبی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے وہاں بڑا فضل کیا ہے۔نیز اس نے جماعت کے نوجوان ڈاکٹروں کو وقف کی توفیق دی۔۱۹۷۱ ء کے شروع سے کل بتیس ڈاکٹر وہاں گئے ہیں۔بلکہ ۱۹۷۰ء کے آخر سے ہی سمجھیں اور اس وقت سولہ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں باقی تبدیل ہو کر واپس آگئے۔وہاں پر سولہ ہیلتھ سنٹر ہیں نیز وہاں سترہ سکول ہیں جن میں پینتیس اسا تذہ کام کر رہے ہیں۔وہاں کے عمائدین کی آراء میں سے چند ایک یہ ہیں ( یہ آراء شروع سے لی گئی ہیں۔) صدر جمہوریہ سیرالیون ڈاکٹر سٹیونسن نے ۲ / دسمبر ۱۹۷۱ء کو احمد یہ سیکنڈری سکول بو کے معائنہ کے وقت تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا۔میں سب سے پہلے جماعت احمدیہ کا اس کام کے لئے جو یہ تعلیم کے میدان میں کر رہی ہے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اب اس جماعت نے تعلیم کے ساتھ ساتھ طبی میدان میں بھی ہماری مدد کرنی شروع کر دی ہے۔میں ان تمام گرانقدر خدمات کے لئے جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں“ پھر غانا میں ۱۹۷۴ء میں احمد یہ ہسپتال اگونا کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے سے قبل ریجنل