خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 92
خطابات ناصر جلد دوم ۹۲ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء چاہوں جسے تو نے جلد کرنا پسند فرمایا۔اے اللہ مجھے استغنائے نفس عطا کر اور میری آنکھوں اور کانوں سے مجھے تمتع فرما اور میری نسل کو بھی ، اور جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف تو میری مددفرما اور جو بدلہ تو اس سے لے وہ مجھے بھی دکھا دے اور اس طرح میری آنکھ کو ٹھنڈک عطا فرما۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کے لئے بے حد دعائیں کی ہیں۔جماعت کا قیام اسلام کے غلبہ کے لئے ہے اس لئے ہر وہ دُعا جو غلبہ اسلام کے لئے کی گئی ہے وہ در حقیقت استحکام جماعت کے لئے بھی ہے۔خدا کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری ہی دُعائیں ہمارے حق میں قبول ہوں اور اللہ تعالیٰ نہ ہمارے کسی ہنر کے نتیجہ میں بلکہ محض اپنی رحمت اور اپنے فضل سے ہمیں اپنا پیارا بنالے اور ہمیں ان کاموں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے اور ہم سے وہ عمل کروائے جن کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہر انسان کے دل میں پختہ طور پر گڑ جائے۔جیسا کہ آپ ہر سال جلسہ کے موقع پر بھی سنتے ہیں اور دورانِ سال بھی سنتے رہتے ہیں یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں ہے اور نہ کسی دنیوی غرض کے لئے اسے منعقد کیا جاتا ہے اس کا مقام اس قدر بلند ہے کہ دنیا دارانہ نگاہ اس کے مقام تک پہنچتی ہی نہیں اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکتی ہے اور نہ ہمیں ان سے کوئی شکوہ ہے۔ہماری دعائیں ہیں اور ہماری خواہش ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو عظیم مجاہدہ مہدی علیہ السلام کی بعثت سے شروع ہو چکا ہے اسے انسان آہستہ آہستہ پہچاننے لگے اور وہ دن جلد آئے جب ساری دُنیا ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے اور ایک ہی پیشوا ہو یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے انسان مل کر خدائے واحد و یگانہ کی ( بغیر کسی شرک کی ملونی کے ) پرستش کرنے لگیں۔اس دنیا میں دنیا بھی ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔اگر خیر کی اور بھلائی کی دنیا ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں اور نیکیاں کمانے والی دنیا ہو تو اس میں برکت ہے لیکن اگر وہ دنیا خدا سے دور لے جانے والی اور ان اخلاق کو تو ڑ دینے والی ہو جو اسلام ایک مسلمان میں پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ بد بختی کی دُنیا ہے وہ لعنت کی دنیا ہے خدا ہمیں دُنیا کی لعنت سے بچائے رکھے اور ساری