خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 695
۱۵ اللہ تعالی ( خدا تعالی) جب انسان اپنی ساری طاقت خرچ کر دیتا اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے محبوب کے مقابلہ میں کامل نیستی کا جامہ پہننا پڑتا ہے ہے تو خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے ۱۵ اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی کا نتیجہ بھی یہ ہونا ہم کمزور ہیں لیکن جس خدا کی طرف چاہیئے کہ جو خدا کہتا ہے وہ تم کرو منسوب ہوتے ہیں وہ کمزور نہیں خدا کی راہ میں تمہارے اعمال، اخلاص و ارادات سے پُر اور فساد سے خالی ہوں ۷۴ خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ ہمارا کارساز ہے اور اتنی قوت اور خدا کی حمد میں مشغول رہنا اور شکر بجا لانا طاقت رکھتا ہے کہ ہمارے سارے کام کر تمہاری عادت بن جائے ۸۸ سکتا ہے کوئی غلطی ہمارے رب کی طرف منسوب ہمارا اللہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے نہیں ہو سکتی صرف اور صرف اسلام کا خدا ہی زندہ خدا ہے ۱۴۶ ۲۱۵ تمام قدرتوں کا مالک ہے عاجزی کے وقت ایک وہی ذات ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار جو ہے وہ تو ہو ہی ہمارے کام آ سکتی ہے نہیں سکتا ۲۲۸ ہم عاجز ہیں لیکن ہمارا خدا عاجز نہیں خدا تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں ہو قطع نظر کوشش کریں کہ ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا ۲۲۹ ۲۳۳ ۲۳۸ ۲۵۴ ۲۵۵ ۲۵۵ ۲۵۹ اس کے کہ اس نے ہم پر کتنے احسان کئے ۲۲۸ اور اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے والا ہو ۲۵۹ ہر احمدی کے دل میں اپنے ربّ کے لئے ہمیں ایسے اعمال کی توفیق دے کہ جن سے ذاتی محبت پیدا ہونی چاہیئے گلاب کے پھول کا حسن اللہ تعالیٰ کے حسین ۲۲۸ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے ۲۶۰ عاجزانہ اپنے رب کے حضور جھک کےاسے جلووں کی ایک ہلکی اور خفیف سی جھلک ہے اللہ تعالیٰ کے حسن کی معرفت اگر حاصل کر لو تو تم اس سے محبت کے بغیر نہیں رہ سکتے ۲۲۸ ۲۲۸ اپنے حالات اور اپنی تکلیفیں بتائیں اے ہمارے رب! ہماری زندگی کو بے مقصد ۲۶۰ ۲۶۱ بننے سے بچالے اور اپنی پناہ میں لے لے اگر محبت ذاتی پیدا نہیں ہوتی تو اس کا اللہ تعالیٰ کی گرفت شدید ہے کچل کر رکھ دیتی مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے رب کی معرفت ۲۲۹ اور ہلاک کر دیتی ہے حاصل نہیں ۲۶۲