خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 678 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 678

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۷۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب نعمتوں کا وارث بنا دیتا ہے۔پس آج میں اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اڑھائی کروڑ روپے کی اپیل کرتا ہوں لیکن میں اپنے رب کریم پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے آج ہی یہ اعلان بھی کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سولہ سالوں میں ہمارے اس منصوبہ کے لئے پانچ کروڑ روپے کا انتظام کر دے گا انشاء اللہ تعالی۔میں نے ابھی اس منصوبہ کا اعلان نہیں کیا تھا کہ انگلستان کی جماعت نے ایک کروڑ روپے کا وعدہ کر دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ میں گو جماعت تھوڑی ہے لیکن ان کی آمدنیاں کافی ہیں۔دوسرے ممالک میں بھی ہمارے احمدی بستے ہیں۔کوئی بعید نہیں کہ ۵۰ ،۴۰ لاکھ کے ریب غیر ممالک سے اس مد میں چندہ اکٹھا ہو جائے اور جتنی رقم آپ نے پچھلے تین سال میں نصرت جہاں ریز روفنڈ میں دی ہے اگر اسی نسبت سے اتنی رقم آپ اگلے سولہ سالوں میں دیں تو یہ کوئی پونے تین کروڑ روپیہ بن جاتا ہے۔اس سے بھی آگے لے جایا جا سکتا ہے تاہم ہمارے دل میں کوئی تکبر نہیں پیدا ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے دین کی اشاعت کا کام کرو اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے کہا کہ میں تمہاری حقیر کوششوں کو قبول کر کے کام میں فرشتوں سے کرواؤں گا اور کریڈٹ تمہیں دے دوں گا۔اس لئے مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ اڑھائی یا پانچ کروڑ روپیہ کہاں سے آئے گا یا آئے گا بھی یا نہیں۔انشاء اللہ ضرور آئے گا اور اس کے لئے جس قدر انسانوں کی ضرورت ہے اور جس قسم کے دماغوں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دے گا جو فکر ہمیں کرنی چاہئے مجھے بھی اور آپ کو بھی وہ یہ ہے کہ خدا کرے ہماری ان حقیر قربانیوں کو قبول کر کے وہ عظیم نتائج جو اپنے فرشتوں کے ذریعہ اپنے فضل سے پیدا کرے گا ان کے سارے کے سارے انعامات (فرشتوں نے انعام لے کر کیا کرنا ہے ) آپ کی جھولیوں میں ڈال دے اور ہماری حقیر قربانیوں کو وہ قبول کرے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں بہت سی بشارتیں دے رکھی ہیں۔ایک بشارت کا اقتباس میں پڑھ دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر