خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 668 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 668

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب فَسَونكَ فَعَدَلَك (الانفطار : (۸) اور ان قوتوں کو درجہ بدرجہ مختلف ارتقائی مدارج میں سے گزار نے کے لئے ہر قسم کے سامان عطا فرمائے۔پھر خدا نے انسان کو مخاطب کیا اور فرمایا اے انسان! تیری نوع کو میں نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ تیری نوع میں سے میں اپنا ایک پیارا وجود پیدا کرنا چاہتا ہوں۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے معا پہلے تک نوع انسانی کو قبولیت اسلام کے لئے تربیت دی جاتی رہی۔چناچہ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس لئے آئے کہ وہ نسل انسانی کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر انسان کو بنایا گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان کی بھلائی کے لئے رحمۃ للعالمین“ بنا کر مبعوث کیا گیا مگر اے احمدی جماعت کے لوگو! تم بہ سوچو کہ ہم کتنوں تک پہنچے ہیں؟ میں نے اپنے منصوبے کو ابھی محدود رکھا ہے کیونکہ بعض بنیادی قسم کے کام اگلی صدی کی ابتداء کے لئے بھی چھوڑ دینے چاہئیں اور شاید ان کو ہم کر بھی نہ سکتے ہوں۔میں نے صرف یہ سوچا کہ اس وقت ہمیں اس صدی کا جشن منانے اور اگلی صدی کے استقبال کے لئے اور اس عزم کے اظہار کے لئے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ایک سو زبانوں میں اسلام کا بنیادی لٹریچر شائع کرنا ہوگا۔میں نے حساب لگایا ہے کہ اگر فی زبان ایک لاکھ کی تعداد میں لٹریچر شائع کیا جائے تب بھی ایک مختصر سی کتاب پر پچاس ساٹھ لاکھ روپے خرچ آئیں گے لیکن ابھی میں خرچ کی طرف نہیں آرہا۔میں صرف ایک ضرورت بتا رہا ہوں کہ دنیا کی ہر زبان میں اسلامی لٹریچر شائع ہونا چاہئے۔یعنی یہ کہ اللہ تعالی کی ہستی کا تصور کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے؟ قرآن کریم کی عظمت کیا ہے؟ مسلمان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس کے دل کا کیا نقشہ کھینچا گیا ہے؟ اس کا مقام کیا ہے؟ اس نے نوع انسانی کے کن پہلوؤں کی کس رنگ میں خدمت کرنی ہے؟ اس نے کس طرح انسان کا دل جیتنا ہے اور جیتے رکھنا ہے اپنے محبوب آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بھی آقا اللہ تعالیٰ کے لئے۔اس قسم کی ساری باتیں اس لٹریچر میں آئیں گی۔یہ لٹریچر سر دست سو زبانوں میں شائع کرنے کا منصوبہ ہے۔ویسے اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی ساری زبانوں میں ہونا چاہئے۔