خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 620 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 620

۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطا خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) وحصوں پر ۶۲۰ سائنس پر انحصار کر کے اور نئی نئی ایجادات کر کے اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کی تعلیم پر کس کس قسم کے اعتراضات کر رہے ہیں۔ان کا جواب دینا چاہئے۔آج عیسائیت کا دجل ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔تو جہاں تک عیسائیت کا سوال ہے یہ صحیح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنیادی طور پر ان کے منہ بند کر دیئے ہیں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ جب وہ بنیادی حدود کو تو ڑ کر تفاصیل میں جاتے ہیں تو یہ نہیں کہ کوئی ان کا منہ بند کرنے والا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم احمدیوں کو ان کے منہ بند کرنے کی طرف اتنی توجہ نہیں ہے جتنی کہ ہونی چاہئے۔بہر حال اس سلسلہ میں کچھ کام ہوتا رہتا ہے۔یہ کام پر مشتمل ہے۔ایک تو وہ مضامین ہیں جو ہمارے اخبارات اور رسائل وغیرہ میں چھپتے رہتے ہیں اور ایک وہ کوششیں جن کے نتیجہ میں کچھ کتابیں مارکیٹ میں فروخت ہونے کے لئے آجاتی ہیں۔ہمیں ان کی طرف توجہ دینی چاہئے اور جس حد تک ممکن ہو ان کتب سے استفادہ کرنا چاہئے۔کچھ تو پرانے اخبار ہیں اور بڑے مفید اخبار ہیں۔الفضل ہے جو ہمارا مرکزی اخبار ہے اور ہماری جماعت کا ترجمان ہے لیکن اس کی اشاعت بھی اتنی نہیں جتنی آج ہونی چاہئے۔جتنی آج میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جتنی آج سے پچاس سال قبل جماعت احمدیہ کی جس قدر مالی قربانیاں تھیں اس کے مقابلہ میں آج جس قدر قربانیاں ہیں اُسی نسبت سے اُس وقت جتنا الفضل چھپتا تھا آج اُسی نسبت سے زیادہ چھپنا چاہئے۔لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔اس کی طرف ہم توجہ دلاتے ہیں اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔احمدی دوست اس طرف توجہ نہیں کر رہے۔اب تو بڑا ہی نازک وقت آچکا ہے۔جیسا کہ آپ انشاء اللہ تعالیٰ اسی کی توفیق سے کل نئے منصوبہ کے متعلق اور اس کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق کچھ سنیں گے اس کے لیے کل کا انتظار کریں اللہ نے توفیق دی، اس پر ہی بھروسہ ہے، تو وہ اعلان ہوگا۔لیکن یہ تو میں ہر وقت کہوں گا کہ ہم ایک نہایت ہی نازک دور میں اور ہم اپنی زندگی کے ایک نہایت ہی اہم دور میں داخل ہو چکے ہیں اور اس وقت جو ذمہ داریاں جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں جب سے حضرت آدم کی پیدائش ہوئی اس قسم کی اور اتنی اہم ذمہ داریاں کسی قوم پر نہیں ڈالی گئیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ پر جو ذمہ داریاں ڈالیں یہ انہیں کی انتہا ہے۔کیونکہ وہی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے سر چشمہ اُن سارے منصوبوں کا جو ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے جاری کئے گئے