خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 602 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 602

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب مکمل اسوۂ حسنہ بن کر تمہارے سامنے آیا۔اس اسوۂ حسنہ کے مطابق جو تمہیں قومی دیئے گئے۔تعبد ابدی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے ان کی نشو و نما کو کمال تک پہنچاؤ۔خدا تعالیٰ کی صفات کے حسن و احسان کے جو جلوے خدا کی صفات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں نظر آتے ہیں وہ حسن و احسان کے جلوے تمہاری زندگیوں میں بھی نظر آئیں۔تم رب بھی بنو خدا کے فضل اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر اندر اور اس طرح رحمان بھی بنور حیم بھی بنو اور مالک یوم الدین بھی بنو اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جو دائرہ مقر ر کیا ہے اس کے اندر رہو گے تو میری رضا کی جنتوں میں میری رضا کے ماحول میں رہو گے۔باہر نکلو گے تو جہنم میں جا پڑو گے۔اس لئے باہر نہ نکلنا۔اپنے اپنے دائرہ میں اپنی زندگی گزارو۔آپ کے سارے پروگرام، آپ کے سارے کام اور سارے فیصلے اور ساری تمنائیں اور دعائیں اور آپ کی زندگی کے سارے پہلو اسی حقیقت کے غماز ہونے چاہئیں حتی کہ آپ کے آخری لمحات میں بھی یہ حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہئے جب کہ انسان موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوتا ہے اور خدائے رحمان سے کہتا ہے یا خدائے رحیم سے کہتا ہے کہ اے خدا اس قسم کی ہزاروں موتیں بھی آئیں تیری رحمت اور تیرے فضل اور تیرے پیار کے مقابلہ میں یہ موتیں ہمیں کیسے ڈرا سکتی ہیں موت ہمارا منتہا نہیں۔تیری رضا ہمارا منتہائے مقصود ہے اور تیرے فضل اور رحم پر منحصر ہے۔اب اس کے بعد میں دعا کروں گا۔کچھ زبانی دعائیہ کلمات کہوں گا اور پھر ہم اجتماعی طور پر دعا کریں گے۔سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک بڑا ہی مظلوم ہے۔پاکستانی قوم یا اس کے شہری بڑے ہی مظلوم ہیں اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل پچھلے ڈیڑھ دو سال کا زمانہ ہے۔اس عرصہ میں فساد پیدا کرنے والوں نے فساد پیدا کیا۔مجھ سے جو بھی سیاستدان ملنے آتے تھے ان سے میں یہی کہا کرتا تھا کہ مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کو اس کی حقیقی ماں نہیں ملی۔کہتے ہیں ایک قاضی کے پاس ایک مقدمہ گیا۔ایک چھوٹا بچہ سال دو سال کا تھا۔اس کی ماں ہونے کی دعویدار دو عورتیں تھیں۔ایک کہتی تھی میں اس کی ماں ہوں دوسری کہتی تھی میں اس کی ماں ہوں۔یہ بچہ مجھے دو اور دونوں کے پاس بڑی مضبوط گواہیاں تھیں۔بیچارہ قاضی بڑا پریشان تھا۔