خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 597 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 597

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۷ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب اُس نے خود ہوتا ہے لیکن وہ اپنی رحمت سے ہمارے لئے برکتوں کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔میں نے کل آپ کو بتایا تھا پندرہ مہینے میں طبی مراکز اور سکولوں کی آمد پنتالیس لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔فالحمد للہ علی ذلک۔پھر اسی آمد میں سے ہم نے خرچ کیا گو ابتدائی خرچ تو اُس پیسے میں سے ہوا تھا جو جماعت نے نصرت جہاں ریزروفنڈ میں دیا تھا لیکن بعد میں اصل سرمایہ واپس آ گیا اور آمد میں سے خرچ کیا گیا۔دنیا کہتی ہے جماعت احمدیہ نے خرچ کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ایک ملک کے ہائی کمشنر ( مصلحتا میں ملک کا نام نہیں لوں گا ) نے کہا جس رنگ میں جماعت احمد یہ کام کر رہی ہے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلے آٹھ سال میں ہمارے ملک کی ۸۰ فیصد آبادی احمدی ہو چکی ہوگی اور اس نے یہ بھی کہا کہ میں نے تو اپنے بیٹے کو کہہ دیا کہ ابھی سے احمدیت میں داخل ہو جاؤ آٹھ سال کے بعد احمدی ہوئے تو کوئی مزہ نہیں ہوگا۔ایک پاکستانی دوست نائیجیریا میں تھے۔وہاں سے اُن کا کسی اور ملک میں تبادلہ ہوا تو وہ ایک احمدی دوست سے کہنے لگے کہ خاموشی کے ساتھ مگر نہایت تندہی کے ساتھ جماعت احمدیہ نائیجیریا میں تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہے۔اب دیکھو وہ خود احمدی نہیں ہے لیکن اس کا تاثر یہ تھا کہ جماعت احمدیہ ترقی کر رہی ہے۔تاہم جماعت احمدیہ نہ تو خاموشی سے کام کر رہی ہے اور نہ دنیا کی واہ واہ اس کے مد نظر ہے۔ہم نے لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدهر : ١٠) کی رو سے دُنیا سے یہ نہیں کہنا کہ وہ ہمارا شکر ادا کرے۔پس یہ ہے ہمارا علم اور یہ ہے ہمارا لائحہ عمل۔ہم دنیا سے نہ شکر گزاری کے متمنی ہیں اور نہ کسی سے کوئی بدلہ مانگتے ہیں۔ہم تو خدا تعالیٰ کے بندے بن کر بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے میدانِ جہاد میں برسر پیکار ہیں۔خدا نے فرمایا کہ میں جن و انس اور انسان اور غیر انسان کا رب ہوں۔ہم اپنے ملک سے باہر نکلے اور ہم نے کہا کہ اپنے رب کی اس صفت کا صحیح مظاہرہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم دنیا کے کونے کونے میں پہنچ کر اپنے رب سے کہیں کہ ہمیں جتنی طاقت ہے اتنے ہم پھیلے اور تیری ربوبیت کے جلوؤں میں اپنی حقیر سی کوشش ہم نے بھی شامل کر دی۔اے خدا تو اپنے فضل سے ہماری حقیر کوششوں کو قبول فرما اور ان کے بہترین نتائج پیدا کر۔پس یہ ہے ہمارا پروگرام اور یہ ہے ہماری کوششوں کا منتہائے مقصود۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ