خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 579 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 579

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقتیں سب سے زیادہ تھیں۔آپ کا دائرہ استعداد ایک کامل دائرۂ استعداد تھا۔آپ نے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی طاقتوں کو کمال تک پہنچایا۔اسی طرح آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی قوتوں کو ان کے کمال تک پہنچائے اور یہی وہ تعلیم ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔اب کسی کا دوسرے شخص سے یہ کہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ تو میرے جتنی نمازیں نہیں پڑھتا یا نوافل نہیں پڑھتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔کوئی شخص دوسرے سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو میرے جتنے روزے نہیں رکھتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔کوئی شخص کسی سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو میرے جتنی زکوۃ نہیں دیتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔جس شخص کو خدا نے پیسے ہی نہیں دیئے وہ زکوۃ کیسے دے گا۔جس شخص کی فطرت میں کثرت نوافل کی استعداد ہی نہیں رکھی گئی اس کے حصہ میں نوافل کی کثرت نہیں۔خدا تعالیٰ نے اس نکتہ کے سمجھانے کے لئے ہمیں فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے اپنے دائرہ استعداد کے مطابق اپنی قوتوں اور طاقتوں کو کمال نشو و نما تک پہنچاؤ گے تو تمہارے حالات کے مطابق جنت کا ایک نہ ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ظاہر ہے کہ ہر ایک آدمی کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ہر ایک کی دلی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ہر ایک آدمی کا مجاہدہ مختلف ہوتا ہے۔اسی طرح ہر ایک کی استعدادیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے لازماً ہر ایک کا دائرہ استعداد اور اس کا کمال بھی مختلف ہوتا ہے۔چنانچہ خدا نے فرمایا میں نے تمہارے لئے جنت کے آٹھ دروازے بنادیئے ہیں۔تم اپنی استعداد اور اس کی نشو و نما کے مطابق جس دروازے کو پسند کرو اس میں سے داخل ہو جاؤ۔پس پہلی چیز یا پہلا اصول یا پہلی بنیادی بات جو قرآن کریم میں اسوہ رسول کے بارہ میں بیان ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ساری قوتوں اور طاقتوں کو اُن کی نشو و نما کے کمال تک پہنچا دیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر تمہاری جتنی بھی طاقتیں ہوں اُن کو اپنے اپنے دائرہ میں کمال تک پہنچاؤ یہی اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا نام ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے اور تمہارے اندر کسی نہ کسی لحاظ سے کمزوری واقع ہو جائے گی تو تم خُدا کے اُس پیار کو حاصل نہیں کر سکو