خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 528 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 528

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) جارہی ہیں جو اس میں آکر شامل ہو جائیں گی۔۵۲۸ ۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء۔افتتاحی خطاب پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے بعد پہلے سال کا نفرنس ہوئی تھی (اسے بھی ہم جلسہ ہی کہتے ہیں )۔اس جلسہ کی الہی اینٹ رکھے جانے کے بعد حقیقتا جو پہلا اجتماع ہوا وہ ۱۸۹۲ء کا جلسہ ہے۔آج سے اسی سال پہلے کی بات ہے کہ اس اشتہار کے بعد جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے جو جلسہ ہوا اس میں پچھتر آدمی شریک ہوئے تھے۔گویا اس وقت احمدی دوست جو جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے ان کی تعداد سو تک بھی نہیں تھی۔ان کی تعداد صرف پچھتر تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دعا کروائی کہ اک سے ہزار ہو دیں اور اس دعا کو اس رنگ میں بھی قبول کیا کہ آج پچھتر کے مقابلہ میں پچھتر ہزار سے زیادہ احمدی اس جلسہ میں شامل ہورہے ہیں۔( گنتی پر یہ تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار ثابت ہوئی ) اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے وہ کامل قدرتوں والا ہے اس نے ساری دنیا کو یہ کہا کہ اُٹھو اور میرے اس سلسلہ کو مٹانے کی کوشش کرو۔اور سارے ساز و سامان اس کے خلاف اکٹھے کرلو لیکن تم کامیاب نہیں ہو گے۔ہو گا وہی جس کا میں نے ارادہ کیا ہے اور جس کا میں نے اعلان کیا ہے۔جلسہ سالانہ میں تو جماعت احمدیہ کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔پہلے جلسہ سالانہ میں مہدی معہود کے فدائی اور عاشق پچھتر احمدی جمع ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو گھروں میں چھوڑا اور جلسہ میں شامل ہونے کے لئے قادیان پہنچ گئے۔اُس وقت جماعت احمدیہ کی تعداد ۷۵ تو نہیں تھی کیونکہ سارے لوگ تو آ نہیں سکتے تھے۔بہت ساروں کو اپنے کام تھے۔کوئی بیمار تھا، کسی کے پاس زادِ سفر نہیں تھا۔کسی کے لئے کوئی اور جائز مانع اور رکاوٹ تھی۔اگر ہم اندازہ لگائیں کہ اس وقت جماعت کتنی ہوگی تو چند ہزار بنتی ہے اگر دس ہزار بھی ہو تو دس ہزار بھی اک سے ہزار ہوویں“ کی رو سے ایک کروڑ بنتا ہے اور آج اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کی تعداد ایک کروڑ سے آگے نکل چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی انعام اور فضل اور رحمت اور ان فضلوں کے اظہار کے بعد اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے اب میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اسے دنیوی میلوں کی طرح نہ سمجھنا کیونکہ اس کی بنیاد