خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 520
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب بھی خطرے میں ہیں۔مال بچانے کا نعرہ لگا کر اپنی جانیں تو نہ گنواؤ۔یہ تو عقلمندی کی بات نہیں۔جتناحق کسی اور کا تمہارے پاس ہے وہ تم سے مانگتے ہیں۔اگر ہر پاکستانی کی پڑھائی کا انتظام ہو جائے ، اس کے کھانے کا ، اس کی مناسب رہائش کا ، اس کے کپڑوں کا ، اس کے علاج کا اور اس کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔تو پھر اگر کسی کے پاس ایک کروڑ روپیہ بھی اپنا ہے تو غریب للچاتی ہوئی نظروں سے ایک امیر کی طرف نہیں دیکھے گا۔میری عقل اس بات کی ذمہ واری لیتی ہے کہ انشاء اللہ یہ نہیں ہوگا۔۔غرض وہاں ہم اُن کے امیر سے لیتے ہیں اور غریب پر خرچ کر دیتے ہیں ہمارے کا نو کے میڈیکل سنٹر میں کئی سالوں میں ۲۰ ہزار پاؤنڈ کی بچت ہوئی تھی۔اب ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہم نے انہیں کہا کہ یہ ساری رقم اسی سنٹر پر لگا دو اور ایک ہسپتال بنا دو۔چنانچہ اب وہ ہسپتال کی ایک نہایت خوبصورت بلڈنگ بن گئی ہے جس پر کم و بیش تمیں ہزار پاؤنڈ خرچ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ پانچ لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے۔بچت ہوئی ہوئی تھی۔ایک دھیلہ نہیں لے کر آئے سب وہاں خرچ کر دیا اور اس کا نتیجہ بھی اللہ کے فضل سے بڑا خوشکن نکلا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یو نہی تو نہیں فرمایا تھا کہ ان وسائل اور ہتھیاروں کے ذریعہ جو میں نے تمہیں دیئے ہیں تم لوگوں کے دل جیتو گے۔ان میں ایک ذریعہ کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔کا نو خاصہ بڑا شہر ہے۔وہاں حکومت کا اپنا ایک اچھا ہسپتال ہے۔وہاں حکومت کے ایک وزیر صاحب گورنمنٹ کے ہسپتال کی بجائے ہمارے ڈاکٹر کے پاس آیا کرتے ہیں۔ان کے دوستوں نے ایک دن پوچھا تم نے کیا بنایا ہوا ہے۔تم ملک کے وزیر ہو۔حکومت کا ہسپتال ہے جس میں تمہیں ہزار قسم کی جائز یا نا جائز ( یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں ) سہولتیں مل جائیں گی تم وہاں جاؤ۔اس نے جواب دیا کہ نہیں۔جو سہولت مجھے جماعت احمدیہ کے کلینک میں ملتی ہے وہ مجھے گورنمنٹ کے ہسپتال میں نہیں ملتی۔پس یہ جذبہ ہے اور یہ بنیادی اصول ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو ڈاکٹر اپنے مریض کے لئے دعائیں نہیں کرتا وہ بڑا ظالم ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دوائی نے آرام دینا ہے۔دوائی نے تو آرام نہیں دینا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایک جلوے نے آرام دینا ہے۔