خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 495

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب نے اس کی مادی اشیاء یا غیر مادی چیزیں غصب کر لیں ہیں اور اس کو نہیں مل رہی ہیں اور اس کے لئے دکھوں کا سامنا پیدا کر دیا ہے۔پس یہ دکھ جو محرومی اور مظلومی کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں ان کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس قدر حسین تعلیم ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی ہے اللہ تعالیٰ ہر شخص کی قوت اور استعداد کو اس کی نشو و نما کے کمال تک پہنچانا چاہتا ہے فرماتا ہے اے مسلمانو ! تم نے فرد واحد کی چاہے مسلمان ہو، چاہے غیر مسلم ، ان قوتوں اور استعدادوں کو جو اللہ تعالیٰ کے عطیے ہیں مثلاً بیج عطیہ ہے اللہ تعالیٰ کا ، وہ درخت بن جاتا ہے اس کو پھل لانا چاہئے ، اسی طرح قدرت کے عطیے جو ہیں ان کی نشو و نما ہونی چاہئے اور یوں اللہ تعالیٰ کے حسن کے خوبصورت جلووں کا پھول کھلنا چاہئے تا کہ دُنیا دیکھے۔اب میرا اندازہ یہ ہے کہ مثلاً علم کے میدان میں ہمارے پاکستان نے ایک لاکھ ذہن اپنی غفلت اور بے تو جنگی کے نتیجہ میں ضائع کر دیئے ہیں۔خدا تعالی پاکستان کو نہیں بھولا تھا ہم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو بھول گئے اور اس کے ناشکر گزار بندے بن گئے۔آج ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سائنسدان کافی نہیں ہیں۔تم نے سائنسی دماغ کا گلا گھونٹ دیا اس لئے کہ وہ دماغ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوتا تھا اور اب تم رو ر ہے ہو کہ ہم ترقی کیسے کریں؟ یہ تو ایسی بات ہے کہ ایک بے وقوف بچے کو اس کے ماں باپ دس پندرہ روپے دے دیں اور وہ پھاڑ پھوڑ کر ٹوکری میں پھینک دے اور باپ کے ساتھ چیزیں خرید نے چلا جائے اور وہاں جا کر کہے کہ میں چیزیں کیسے خریدوں گا میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں مگر تمہارے پاس اس لئے پیسے نہیں ہیں کہ جہالت کی وجہ سے یا اپنے بچپن اور نالائقی کی وجہ سے جو تمہیں پیسے دیئے گئے تھے وہ تم نے ضائع کر دیئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے فضل انعامات کی شکل میں جو ذہن عطا کئے تھے وہ تم نے ضائع کر دیئے شکوہ کس سے؟ اپنے ظلم - کر شکوہ کرو۔اپنی درندگی سے جا کر شکوہ کرو۔اپنے رب سے تم شکوہ نہیں کر سکتے۔تمہارا رب تو تمہیں نہیں بھولا تھا تم اُسے بھول گئے۔تم اس کے ناشکرے بندے بن گئے۔پس جہاں تک اقتصادیات کا تعلق ہے اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں ان کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا، دیر ہورہی ہے۔اسلام نے جو تعلیم پیش کی ہے اور حضرت نبی کریم صلی