خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 39
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کی جاسکتی کیونکہ الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : (٣٦) اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔پھر انسان کی تعمیری قوتیں وقت کی محتاج ہیں۔ہم جو کام بھی کرتے ہیں اس کا نتیجہ نکلنے کے لئے کچھ وقت چاہیے۔یہ نہیں کہ ہمارے دل نے کوئی ارادہ کیا اس میں کوئی خواہش پیدا ہوئی یا ہم نے اپنا ہاتھ ہلا یا اور اسی وقت اس کا نتیجہ نکل آیا۔غرضیکہ انسان کی کوششوں کا نتیجہ ایک وقت کے بعد جا کر نکلتا ہے۔پھر بسا اوقات انسانی یہ کوششیں بے نتیجہ رہ جاتی ہیں مگر خدائے خالق و باری کی قوت نہ کسی مادہ اور اسباب کی محتاج ہے اور نہ کسی وقت کی۔اس کی قدرتوں کے لاکھوں کروڑوں جلوے ہر آن كُن فَيَكُونُ (البقرة : ۱۱۸) سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔یہی حال اس کی تمام صفات کا ہے کہ بے مثال و مانند ہے۔غرض توحید کا یہ سبق ہے جو ہمیں پڑھایا گیا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء اور اس کے دیگر بزرگ بندوں نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہی مقام تو حید اور مقام عبودیت کو حاصل کیا مگر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا عظیم جلوہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر تھا وہ کسی اور کونصیب نہ ہوا اس جلوہ کی ایک جھلک تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر دیکھی اور وہ بھی جبل طور کی وساطت سے براہ راست نہیں مگر جبل طور کا پتھر پاش پاش ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس جلوہ کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو گئے۔پھر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا یہی جلوہ جب اپنی شان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوا تو اس نے آپ کو عاجزی اور تذلیل کے اس پر پایا کہ اس نے آپ کے وجود اور آپ کی روح کو پوری طرح اپنے احاطہ میں لے لیا اور آپ کی روح کے کسی حصہ اور آپ کے جسم کے کسی ذرہ نے بھی اس کے مقابلہ میں کوئی سختی نہ دکھائی اور آپ کلی طور پر اطاعت میں محو ہو کر عبودیت کے جلوہ کو اپنے اندر لیتے ہوئے اس کے سامنے جھک گئے تب ہم نے دیکھا کہ ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبودیت تامہ کاملہ کے ارفع اور اعلی مقام پر فائز تھے۔پھر ہم نے بھی دیکھا کہ انسانی تاریخ میں جہاں خدا تعالیٰ کے ہر نبی نے اس کی توحید کا نعرہ لگایا اور اپنی عبودیت کا اظہار بھی کیا وہاں جس اہتمام اور جس تاکید کے ساتھ