خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 485
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب تمام انسانوں کو ایک جیسی عزت اور شرف حاصل ہے ابھی میں مساوات کی بات نہیں کر رہا یہ اس سے بڑھ کر ہے یہاں سے ابتداء ہوتی ہے۔ہر انسان Potentially یعنی اگر وہ اپنے قولی کی صحیح نشو و نما کرے تب اس قابل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کا مقام حاصل کرے۔جو انسان یا جو فرد واحد اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کا مقام حاصل کر لیتا ہے وہ بنی نوع انسان کے لئے معزز اور قابل احترام بن جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بڑے ہی حسین نمونے ہمارے لئے چھوڑے ہیں میں ایک چھوٹی سی مثال دے دیتا ہوں۔ایک صحابی تھے وہ مزدوری کیا کرتے تھے پتھروں کی کٹائی کیا کرتے تھے۔پتھر کوٹ کوٹ کر ان کے ہاتھ جسم کے رنگ سے زیادہ کالے ہو گئے تھے۔عام طور پر ہاتھ سے کام کرنے والوں کے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں خصوصاً جو مٹی میں کام کرنے والے پتھر کی کٹائی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں اُن کے جسم پر سیاہی کا زیادہ رنگ آجاتا ہے۔غرض وہ رنگ میں بالکل سیاہ ہو گئے تھے۔ایک دن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا کہ تمہارے یہ ہاتھ کیوں کالے ہو گئے ہیں۔تو اس صحابی نے آگے سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دن بھر پتھر پر پھاؤڑا چلاتا ہوں اور اس سے اپنے اہل وعیال کی روزی کماتا ہوں جب اس نے یہ کہا تو غالباً اس رنگ میں کہا ہوگا یا اظہار کیا ہو گا کہ میں ہوں تو انسان مگر دُنیا میں میری عزت اور احترام کوئی نہیں۔لیکن آپ تو لوگوں کی عزت و احترام کو قائم کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے جب آپ نے یہ سنا تو اس صحابی کا ہاتھ پکڑ کر فرط محبت سے چوم لیا۔یہ عزت اور احترام ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غریب سے غریب مزدور کو دیا اور یہ عزت اور شرف کا مقام یا عزت و شرف دینے کی تعلیم ہے جس کے ذریعہ سے ہم آج دُنیا میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے دل محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت کے چھوڑنا ہے۔عزت و شرف کے بیان کرنے کے بعد اب میں مساوات کو لیتا ہوں۔مساوات، انسانی عزت یا شرف انسانی کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے۔شرف انسانی تو ہے کہ ہم نے دوسرے آدمی کی عزت کرنی ہے۔اس میں یہ نہیں ہوتا کہ کس چیز میں ہم نے دوسرے انسانوں سے اُسے برابر سمجھنا ہے۔عزت کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو بھی تمہیں ملنے کے لئے آتا ہے اس کی عزت اور احترام کرو خواہ وہ بہترین سوٹ