خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 484
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب کہ سکتا۔ہر آدمی یہ کہے گا کہ تم ہمیں یہ عزت دو ہم تمہاری طرف آجائیں گے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود کیا کہیں ہماری زبان تو آپ کی شان بیان نہیں کر سکتی اس کے ساتھ بھی پیار آ جاتا ہے عزت اور شرف اور احترام اور پیار بھی بیچ میں آ جاتا ہے۔میں اس وقت ایک ہی مثال دیتا ہوں کیونکہ آج کا مضمون کچھ لمبا ہو گیا ہے کل کا بھی بیچ میں چھوٹا ہوا ہے۔اس لئے تفصیل میں میں جانہیں سکتا۔قرآن کریم نے متعدد جگہ پر اس بات کا اظہار کیا ہے چنا نچہ اللہ تعالیٰ سورہ زخرف میں فرماتا ہے:۔وَإِنَّهُ لَذِكْرُ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْتَلُونَ (الزخرف: ۴۵) 66 اس آیت میں امت محمدیہ کی ذمہ واری کی طرف بڑے زور سے توجہ دلائی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ! یہ کلام جو تیرے اوپر اتارا جا رہا ہے وہ تیرے لئے بھی شرف اور عزت کا موجب ہے اور تیری قوم کے لئے بھی ” وَسَوْفَ تُسْتَلُونَ “ اور اے امت محمدیہ ! تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس ہدایت اور تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا ہے یا نہیں۔وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ “ (القلم :۵۳) یه در اصل و لقومک کے متعلق ہے کیونکہ کوئی معاند اور مخالف کہہ سکتا تھا کہ اس کے مخاطب صرف عرب ہیں کیونکہ وہ آپ کی قوم ہیں اس لئے دوسری جگہ فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم عرب نہیں بلکہ عالمین میں بسنے والے با اختیار اور بالا رادہ کام کرنے والی مخلوق ہے اس لئے فرمایا وَ مَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِيْنَ قرآن کریم ساری دُنیا کے لئے شرف لے کر آیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے انہیں مخاطب کر کے کہتا ہے بَلْ أَتَيْنَهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُونَ (المؤمنون :۷۲) ہم ان کے پاس ان کی عزت کا سامان لے کر آئے تھے اور دُنیا میں کوئی عقل مند انسان اپنی عزت اور شرف کے سامان کی وصولی میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا یا لینے سے انکار نہیں کرتا۔لیکن یہ عجیب قوم ہے کہ جو سامان ہم ان کی عزت یا شرف کا لے کر آئے تھے وہ اپنی عزت کے ان سامانوں سے اعراض کر رہے ہیں اور قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پس پہلا ذریعہ ملتِ واحدہ کے قیام کا اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے ہاتھ میں یہ دیا ہے کہ