خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 444
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب جوستارے ہیں ، وہ ستاروں کا ایک خاندان بنتا ہے اور اس عالمین میں ایسے بے شمار خاندان ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ۲) ہم جس کے متعلق کہتے ہیں۔ان خاندانوں میں بے شمار ستارے ہیں جن کو انسان گن نہیں سکا۔یہ متوازی نہیں چل رہے بلکہ ان کی حرکت اس طرح ہے کہ فاصلہ دور ہوتا جاتا ہے۔سارا خاندان مل کر اکٹھا ایک حرکت میں ہے جو متوازی نہیں ہے اور وہ خاندان اسی طرح چل رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا فاصلہ بڑھ رہا ہے۔جب اُن دو گلیکسیز کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ ایک نئی گلیکسی بیچ میں سما سکے تو اللہ تعالیٰ کسن کہتا ہے اور ایک نئی گلیکسی پیدا ہو جاتی ہے۔اس طرح میں تو حید کو ثابت کرتا چلا گیا تب اس کو اپنا سر جھکانا پڑا۔میں بڑا خوش تھا کہ جو متکبر دماغ تثلیث کا نمائندہ بن کر میرے سامنے اکٹڑا تھا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی تثلیث کو تو حید کے سامنے جھکنا پڑا۔ہرسال ہماری کتب کے نئے ایڈیشنز چھپتے ہیں اور نئی نئی کتب بھی شائع ہوتی رہتی ہیں ، ان کے متعلق میں اعلان کیا کرتا ہوں کہ اس میں ہماری جماعت کو دلچسپی لینی چاہیے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بے بس ہونے کے باوجود، اس کے باوجود کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، ذرائع نہیں ہیں ، مال و دولت نہیں ہے، یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن ہمارے پاس اس کے فضل سے وہ ہے جس نے کہا کہ علم کا سر چشمہ میں ہوں اور جو اپنے فضل سے وہ ہمیں دیتا ہے، ہر شخص کو شکر نعمت کے طور پر فائدہ اُٹھانا چاہئے اور جو کتب شائع ہوں اپنی بھی اور دوسروں کی بھی ، جتنی جس کو خدا توفیق اور سمجھ دے وہ پڑھنی چاہئیں تاکہ کہیں اسلام کی سبکی کا امکان باقی نہ رہے۔پھر دعا کرنی چاہیے۔اصل تو اسی وقت اللہ تعالیٰ سکھاتا ہے۔دوروں میں بڑے بڑے صحافی اور دوسرے ملنے والے تیار ہو کر آئے کہ ہم یہ سوال کریں گے اور یہ کریں گے اور وہ کریں گے لیکن ان کو وہاں لا جواب ہونا پڑا۔افریقہ سیکس (Africa speaks) جس کا ابھی میں اعلان کروں گا ، اس میں غالباً ایک پریس کا نفرنس کی رپورٹ ہے جو وہیں کے اخباروں نے شائع کی کہ کئی دنوں سے ہم سوال لکھے تو رہے تھے لیکن وہاں جا کر خاموش ہونا پڑا۔لکھا ہے کہ آخر انہوں نے خود ہی بات چھیڑی اور ہم سے باتیں شروع کر دیں پھر ہمیں کچھ حوصلہ ہوا اور ہم نے سوال کئے۔بہر حال تدبیر کرنی چاہئے اور کتب سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس