خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 34
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اور کئی جماعتیں اس کی ایک سے زائد کا پیاں بھی خرید سکتیں ہیں تا پڑھے لکھے دوست دوسروں کے لئے ہدایت کے سامان اس سے حاصل کریں اور اپنے بھائیوں کو سنائیں۔ایک بڑی خوشخبری ملی ہے جو میں جماعت کے دوستوں کو بھی سنانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ افریقہ کا ایک ملک گیمبیا ہے جو اسی سال ماہ فروری میں آزاد ہوا تھا۔چند دن ہوئے وہاں کے قائم مقام گورنر کے عہدہ کے لئے چار نام بھجوائے گئے تھے ان چار ناموں میں سے جس شخص کا انتخاب کیا گیا ہے وہ الحاج ایف ایم سنگھائے ہیں۔ایف ایم سنگھائے خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلص احمدی ہیں ۱۹۴۲ء میں وہ احمدی ہوئے تھے۔اس وقت ان کی عمر چھپن سال کے قریب یعنی میری عمر کے برابر ہے۔آپ پہلے گورنمنٹ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے۔۱۹۴۲ء کے شروع میں آپ نے ریٹائرمنٹ لے لی۔وہ گیمبیا کے سیاسی لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔۱۹۴۲ء میں آپ کو جسٹس آف پیس (Justice of peace) مقرر کیا گیا۔اسی سال آپ کو حج بیت اللہ کا شرف حاصل ہوا۔آپ میڈ نگا (Mandinga) قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جماعت کے پریذیڈنٹ ہیں اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے انہیں گیمبیا کا قائم مقام گورنر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی جماعت کے لئے ایک خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میرے فضل تم پر اب بھی جاری ہیں۔پچھلے ماہ کی جو رپورٹیں میرے پاس آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف غیر ممالک میں تقریباً پچاس احباب احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔کل مخدومی و محترمی چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ایک تحریک جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔اس کا پہلے جو نام تجویز کیا گیا تھاوہ میں نے جان بوجھ کر نہیں لیا تھا اب مشورہ کے بعد اس کا نام دفضل عمر فاؤنڈیشن“ رکھا گیا ہے۔چوہدری صاحب موصوف نے دوستوں کے سامنے یہ تحریک کی تھی کہ ایک فاؤنڈیشن قائم کی جائے اور اس کی آمد سے بعض ایسے کام کئے جائیں جن سے حضرت مصلح موعودؓ کو خاص دلچسپی تھی۔اس میں شک نہیں کہ صدر انجمن احمد یہ جس کو موجودہ شکل حضرت مصلح موعودؓ نے دی ہے تحریک جدید جسے آپ نے قائم کیا ہے اور وقف جدید جسے آپ نے جاری کیا ہے اسی طرح مجلس انصاراللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ، ناصرات الاحمدیہ، اطفال