خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 426
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب عظ ان سے بڑھ کرتم اللہ تعالیٰ کی رضا کو پا سکتے ہو۔”الحق کو تم پاسکتے ہو یہ عجیب بات ہے کہ اتنی ظیم عزت اور عظمت کے سامان تمہارے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور تم ان کی طرف توجہ نہیں دیتے اور صرف ایک مختصر سے اور چھوٹے سے حصہ عزت کا تم بہانہ بناتے ہو اور کہتے ہو کہ ہماری کتاب میں بھی عزت کا سامان ہے لیکن تمہاری کتاب میں جو عزت کا سامان ہے اس کی طرف بھی تو تم توجہ نہیں دیتے بلکہ اس میں جو گند تم نے اپنی طرف سے ملا دیا ہے تم ہر وقت اس کی پیروی کرتے ہو۔اس لئے تم بڑے جاہل ہو اور اپنے نفسوں پر بڑا ظلم کرنے والا ہو۔پانچویں شق اس نکتہ کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو غیر محدود ترقیات کے وعدے دیئے ہیں جیسا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۳) میں اس فیض عظیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جس کے حصول کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التخريم : ٩) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تفسیر یوں فرماتے ہیں اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا۔یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہوگا۔پھر دوسرا کمال سامنے نظر آئے گا۔اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے۔پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجاء کریں گے اور جب وہ حاصل ہوگا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظاہر ہوگا۔پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو بیج سمجھیں جائیں گے اور اس کی خواہش کریں گے یہی ترقیات کی خواہش ہے جو آتھر کے لفظ سے سمجھی جاسکتی ہے۔غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا اور تنزل کبھی نہیں ہو گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱ صفحه ۴۱۲ ۴۱۳) یہ وعدہ ہے امت محمدیہ سے۔اٹھارہ میں سے تین باتیں میں نے بیان کر دی ہیں اور باقی پندرہ کو بیان کرنے کا تو اب وقت بھی نہیں۔دوستوں نے جانا بھی ہے اور جانے کی تیاری بھی کرنی ہے اور ہم نے بھی ان کو الوداع کرنے کی تیاری کرنی ہے یعنی ان کے لئے خوب دعائیں کرنی ہیں۔انشاء اللہ۔سواب میں تقریر کو اس حصہ پر ختم کرتا ہوں۔