خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 377

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دو اء۔دوسرے روز کا خطاب اور اس میں یہ لکھا کہ میں نے آپ کو اس لئے خط نہیں لکھا تھا کہ آپ کا وقت قیمتی ہے اور میرے پاس آپ کو بتانے کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن اب میں مجبور ہو گیا ہوں چنا نچہ اس خط میں اس نے سارے حالات لکھے اور لکھا کہ میں دل سے احمدی ہو گیا ہوں لیکن ظاہری نہیں ہوا۔ہم میاں بیوی سارے کیتھولک ہیں میں گر جا میں اسی طرح جاتا ہوں جس طرح پہلے جایا کرتا تھا البتہ گر جا میں جا کر بجائے ان کی دعائیں پڑھنے کے سارا وقت لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھتارہتا ہوں۔اب وہ پاک نفس آگے سے یہ زیادتی کرتا ہے کہ آپ مجھے منافق تو نہیں قرار دیں گے۔یعنی یہ احساس بیدار تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ وہ کٹر بیوی جس کے ساتھ یہ وفا کر رہا تھا۔چرچ نے اسے ابتلاء میں ڈالا اور یہ اس سے متنفر ہو گئی۔میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا پھر اس نے اعلان کیا۔اب ہمارا مبلغ وہاں جاتا ہے تو اپنے خرچ پر وہ ساتھ جاتے ہیں ایک تقریر وہ کرتا ہے اور ایک تقریر یہ کرتے ہیں۔انہوں نے قرآن کریم کا اسپر نٹو میں ترجمہ کیا ہے اور ہمارے تراجم کو پورا پڑھا ہے اور ان پر عبور حاصل کیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مبلغ ہمیں بیٹھے بٹھائے مل گیا۔تحریک جدید کی طرف سے تجویز آئی تھی کہ جس طرح باہر دوسرے ملکوں میں آنریری مبلغ ہیں اسی طرح ان کو بھی آنریری مبلغ قرار دے دیا جائے۔بڑا بے نفس انسان ہے۔اور بڑا امیر انسان ہے کراچی میں امریکی سفارت خانے کی جو وسیع عمارت ہے اس سے بھی بڑی بلکہ دوگنی تگنی بلڈنگ اس انشورنس کمپنی کی ہے جہاں یہ مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ڈیوٹی دے رہا ہے مگر جب آپ سے بات کرے گا تو بالکل بے نفس اس کے اندر کوئی تکبر اور ریا نہیں ہے اور جہاں جاتا ہے تبلیغ ضرور کرتا ہے۔اٹلی میں گیا تو وہاں بھی لیکچر دیا ہر جگہ جا کر تبلیغ کر رہا ہے۔غرض یہ کھل کر سامنے آ گیا۔اس طرح کے اور لوگ اللہ تعالیٰ ہمیں دیتا رہتا ہے بہر حال انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ شائع کیا۔غیر ممالک اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں کثرت سے ہو رہی ہیں۔لیکن بعض نمایاں پہلو جو ہیں وہ میں اس وقت بتا دیتا ہوں مشرقی افریقہ میں پاکستانی، ہندوستانی لوگ ( یعنی پارٹیشن۔پہلے ہندوستان کہلا تا تھا ) بہت کثرت سے آباد تھے اور انہی میں سے بیعیں ہوئیں اور انہی میں سے جماعتیں بنیں اور مشرقی افریقہ مثلاً کینیا کے علاقے میں تو شاید ہی کوئی مقامی باشندہ احمدی ہوا ہو لیکن بڑی مضبوط جماعتیں تھیں بڑے چندے دیتی تھیں۔بڑی قربانی کرنے والی تھیں۔لوگوں کے