خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 370

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٧٠ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔کہ ذوالقرنین سے مراد مسیح موعود اور مہدی معہود ہے اور اس کے سفروں کی یہ تفصیل ہے۔قرآن کریم کے بہت سے بطون ہوتے ہیں اور بہت سی تفاسیر ہوتی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی علاوہ اور معانی کے اس کے یہ معنے بھی کئے ہیں لیکن ایک اور تفسیر کے ساتھ یعنی معنے یہی کئے ہیں کہ اس سے مسیح موعود ہی مراد ہیں اور ان کے یہ تین سفر ہوں گے اور یہ حالات پیدا ہوں گے۔لیکن وہ مختلف معنے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معنوں سے۔ہر دو درست اور صحیح ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جو معنے کئے ہیں ان میں ایک سفر مشرق کا ہے تو جب خدا کا مامور اسلام کو غالب کرنے کے لئے کشفی طور پر یا الہامی بیان میں مشرق کا سفر کرے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تیر کی طرح ایک سیدھی لائن ہے اور جو ملک سامنے آ گیا وہ اس کے اثر کے نیچے آئے گا باقی نہیں آئیں گے۔بلکہ پھیلاؤ میں وہ سفر ہے یعنی سارے مشرق کو گھیرتا ہے ورنہ تو مقصد حاصل ہی نہیں ہوتا۔ہم نے مشرق کے سفر کئے تھے احمدیت نے پہلے مثلاً انڈونیشیا ہے اور نبی میں جماعت تھی۔انڈونیشیا میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑی جماعتیں ہیں کہ وہ آپ کے مقابلے میں کھڑی ہو سکتی ہیں کثرت تعداد اور کثرت ایثار اور قربانی کے لحاظ سے۔وہ بڑی قربانی دینے والی جماعتیں ہیں دعاؤں میں مشغول رہنے کی کثرت کے ساتھ ، بے نفسی کے مظاہروں کی کثرت کے ساتھ ہر لحاظ سے آپ مقابلے میں یعنی جو پاکستان کی ہماری احمدی جماعتیں ہیں ان کے مقابلے میں کھڑی ہوسکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا رحم کیا ہے لیکن وہ بھی کافی نہیں ابھی تو ویسے یہاں بھی ہم نے بڑھنا ہے۔انشاء اللہ۔اور وہاں بھی بڑھنا ہے لیکن کسی ملک کو بھی ہم کلینتہ نظر انداز نہیں کر سکتے پھر ایک ایسے ملک کو جو ہماری توجہ اپنی طرف اس وجہ سے کھینچ رہا ہے اور زبان حال سے ہمیں یہ کہہ رہا ہے کہ اے احمدیوں اللہ نے دنیوی طور پر مجھ پر اتنا فضل کیا ہے کہ میں روس اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن روحانی طور پر انسان جن فضلوں کو حاصل کر سکتا ہے ان فضلوں سے مجھے محروم کیوں کرتے ہو۔ان کی یہ آواز تھی جو میرے کانوں میں پڑ رہی تھی اور میرے دل میں اس بات کی بڑی تڑپ تھی کہ اللہ تعالیٰ وہاں مشن کھولنے کے جلد انتظام کر دے۔سال رواں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں مشن کھل چکا ہے الحمد للہ اور ہمارے ایک ادھیڑ عمر کے بزرگ مبلغ وہاں پہنچ چکے ہیں۔عمر کا میں نے خاص وجہ سے فقرہ بولا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ادھیڑ عمر میں ایک نئی