خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 26
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶ ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار دینے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر اس کی سنت یہ ہے کہ وہ قوم جس کو وہ شکست دینا چاہتا ہے گو وہ اپنی مد مقابل قوم سے مال و اسباب کے لحاظ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اور اپنی اس طاقت پر بڑا گھمنڈ رکھتی ہے اپنے مقابل کی قوم کو بہت کم تعداد میں دیکھتی ہے۔کیونکہ اگر خدا تعالیٰ ان کے دلوں میں یہ ڈالے کہ جو قوم ان کے مقابلہ میں آرہی ہے وہ بھی بڑی طاقت ور ہے تو وہ جنگ میں ابتداء ہی نہیں کریں گے اور مسلمان بھی ابتداء نہیں کریں گے کیونکہ انہیں حکم ہے کہ تم جنگ میں ابتداء نہ کروپس اگر مد مقابل قوم مسلمانوں کو طاقتور سمجھے گی یا یہ سمجھے گی کہ ہم انہیں کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے تو وہ حملہ کیوں کرے گی؟ لیکن خدا تعالیٰ تو جنگ کے میدان میں انہیں شکست دینے کا ارادہ کر چکا ہے۔لیقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً۔اس لئے خدا تعالیٰ یہ تدبیر کرتا ہے کہ جنگ سے پہلے پہلے مسلمان ان کی نظر میں حقیر، ذلیل ، کمزور اور قلیل التعداد دکھائی دیتے ہیں اور اس طرح ان کے دل میں جرات پیدا ہوتی ہے کہ وہ ان پر حملہ کر دیں۔بالکل اسی طرح ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو ہوا۔جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ان کے بڑے بڑے لیڈروں نے لڑائی سے پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے لندن کی اخباروں میں 4 ستمبر کو ہی چھپوا دیا کہ لاہور شہر پر بھارت کی فوجوں کا قبضہ ہو گیا ہے اتنا غرور تھا انہیں اپنی طاقت پر۔اتنی امید تھی انہیں اپنی کامیابی کی اور اتنا وثوق اور اعتماد تھا انہیں اپنی فوجوں پر کہ ہم اُس کا اندازہ بھی وہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی فوجیں اس قدر کمزور ہیں کہ ان کی شکست یقینی ہے اس لئے انہوں نے لڑائی سے پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کر دیا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کسی ایسی قوم کو جو بڑی طاقت ور ہوتی ہے شکست دینا چاہتے ہیں۔تو تدبیر کرتے ہیں کہ اس کے دشمنوں یعنی مسلمانوں کو ان کی نظر میں بہت کم کر کے دکھا دیتے ہیں حتی کہ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مسلمان تعداد میں ہم سے بہت کم ہیں اُن کے ہوائی جہاز ہم سے کم ہیں ان کی پیدل فوج کی تعداد اور طاقت کے لحاظ سے ہم سے کم ہے اس لئے ہم ان کے پر خچے اڑا کر رکھ دیں گے لیکن جب جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ ان کی آنکھوں کے زاویوں کو اس طرح بدل دو کہ وہ مسلمان جو جنگ سے پہلے انہیں کم اور کمزور دکھائی دے رہے تھے زیادہ تعداد میں اور طاقت ور نظر آنے لگیں چنانچہ پچھلی جنگ میں اس قسم کے بیسیوں واقعات مشہور ہوئے ہیں لیکن