خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 328
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالات متفرقہ اور صفات خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں ( یعنی ہر نبی میں جو اپنی اپنی خاص صفات اور شان تھی ان سب کو اپنے وجود میں اکٹھا کر لیا کیونکہ وہ شانیں دراصل ایک عکس ایک ریفلیکشن (Reflection) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا ہی تھا۔چنانچہ قرآن کریم کی بہت سی آیتیں جن کا اس وقت لکھنا موجب طوالت ہے اسی پر دلالت کرتی بلکہ بصراحت بتلاتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک باعتبار اپنی صفات اور کمالات کے مجموعہ انبیاء تھی ( یہ ایک ایسا منبع ہے جس میں سے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی نکل آیا۔) اور ہر یک نبی نے اپنے وجود کے ساتھ مناسبت پا کر یہی خیال کیا کہ میرے نام پر وہ آنے والا ہے اور قرآن کریم ایک جگہ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ ابراہیم سے مناسبت رکھنے والا یہ نبی ہے اور بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری مسیح سے بہ شدت مناسبت ہے ( جیسا کہ اب میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں ابن عربی نے کہا ہے کہ ولایت خاصہ کا کمال مہدی جس کا انتظار کیا جارہا ہے اس کے وجود میں ظاہر ہوگا۔تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ہی کہا ہے کہ میری اور مسیح کی بہ شدت مناسبت ہے۔) اور اس کے وجود سے میرا اوجود ملا ہوا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفه ۳۴۳) پھر آپ فرماتے ہیں: ” ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس خاتم الانبیاء کی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیا کہ آنجناب کا دنیا میں تشریف لانا در حقیقت خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے ( یعنی بوجہ مظہر اتم الوہیت یعنی اللہ کا مظہر اتم ، تمام صفات باری کے مظہر اتم ہونے کی وجہ سے تمثیلی زبان میں پہلے صحیفوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کو اللہ تعالیٰ کا ظہور ہی قرار دیا ہے۔ناقل ) بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدا تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے ( اب چونکہ وقت کم ہے میں نے پورا حوالہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لکھا وو