خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 326

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۶ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ایسا آگیا کہ جس میں اس کی استعداد میں کمال تک پہنچ گئیں۔اس زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسا وجود پیدا ہوا کہ جنہوں نے اپنی کمال استعدادوں اور انسان کو سچی اور پورے طور پر جو طاقتیں مل سکتی تھیں جو آپ کو ملیں ان کی صحیح تربیت کی اور آپ ارفع تر مقام کو پہنچ گئے۔چونکہ پہلے زمانوں میں اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر جس حد تک وہ زمانہ اور قوم ترقی کر سکتی تھی اتنا قرآن خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض ماضی میں جیسا کہ ایسا ہی ہمیں مستقبل میں نظر آتا ہے قرآن کریم کی Chanals میں سے قرآن کریم کی نہروں میں سے پیچھے جا کے ان لوگوں تک پہنچے ہیں۔اس کی وضاحت جو ہماری عقل میں پوری بات سمجھ میں آجاتی ہے۔وہ میں انشاء اللہ آگے بیان کروں گا۔اس وقت صرف اتنا بیان کر دیتا ہوں کہ قرآن کریم جو انسان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا اور قرآن کریم کے طفیل پہلوں نے اپنی اپنی ہدا یتیں حاصل کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔در حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔“ اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۶) اور قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم اور جمیع معارف صحف سابقہ کا جامع تھا اور مظہر جمیع صفات الہیہ تھا۔“ ( تحفہ گولڑ و سید روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۲۵۸) لیکن جو قرآن ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک وہ یہ ہے کہ قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم تمام آسمانی کتابوں کی پیدائش قرآن کریم سے ہوئی کیونکہ وہ اس کا ہ ہے اور صحف سابقہ جتنے بھی ہیں ان میں جس قدر معارف پائے جاتے ہیں ان کا جامع ہے وہ اس کے اندر موجود ہیں وہ سارے معارف اس کے اندر جمع ہو گئے اور یہ اس لئے کہ قرآن کریم تمام صفات الہیہ کو بیان کرنے والا ہے۔جمیع صفات الہیہ کا اپنے بیان میں مظہر ہے۔قرآن کریم نے جس قدر روشنی صفات باری تعالیٰ پر ڈالی ہے کسی اور آسمانی کتاب نے تو نہیں ڈالی۔قرآن کریم نے جس رنگ میں اللہ کو پیش کیا ہے اس رنگ میں اللہ کو بھی پہلوں نے پیش نہیں