خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 325

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب طاقتوں اور استعدادوں کی تربیت کے لئے جیسا کہ خدا تعالیٰ کا قانون ہمیں حضرت آدم کے آغاز سے ہی نظر آتا ہے ایک ایسی شریعت کی ضرورت تھی جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہو اور انسانی فطرت کی ہر شاخ کو سر سبز رکھنے کے قابل اور اہل ہو۔پس قرآن کریم وہ کامل شریعت ہے کہ معنوی لحاظ سے قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہم فرق نہیں کر سکتے جیسا کہ حضرت عائشہؓ سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے اخلاق کیسے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ قرآن پڑھ لو یعنی ایک تو علم ہدایت اور شریعت ہے اور ایک عمل ہے اور سنت ہے اور اسوہ ہے ایک ہی چیز کے دراصل دو نام ہیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل قوت و استعداد کو اپنے کمال تک پہنچانے کے۔قرآن کریم کی کامل شریعت نازل ہوئی اور قرآن کریم نازل نہ ہو سکتا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل وجود دنیا میں نہ ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کوئی کام بے فائدہ اور بے مقصد تو نہیں کیا کرتا۔اگر کسی شخص نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے دومنزلہ مکان کی چھت پر ہی چڑھنا ہے اور اس نے خود وہ مکان بنایا ہے تو وہ اپنے مکان کی تیسری منزل نہیں بنائے گا کیونکہ اس کی اسے ضرورت نہیں تو جب انسان اس قسم کی لغو اور بے مقصد بات نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کس طرح کر سکتا ہے جو حکیم ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ مقصد جو حاصل کرنا تھا تو اس کے لئے اس نے قرآن کریم کو بنایا اور چونکہ ایک نوع ایسی پیدا کی تھی جو ان صفات کی مظہر ہوا اور انہوں نے (اس نوع انسانی نے ) درجہ بدرجہ ترقی کر کے ایک ایسے زمانہ میں داخل ہونا تھا جس میں ایک انسان ایسی استعداد اور قابلیت پیدا کر سکتا ہے جو کمال کو حاصل کرلے اور اس زمانہ میں اسے وہ کتاب بھی دے دی جائے جو اسے کمال تک پہنچا دے تو کتاب دے دی گئی۔ضمنا یہ میں ایک بات کی تشریح کر دیتا ہوں اور وہ یہ۔کہ جہاں تک فلسفہ اور علم کا تعلق ہے ایک ایسے زمانہ میں انسان داخل ہوا جس میں اس کے لئے کمال استعداد کا حصول ممکن ہو گیا اور ان استعدادوں کی کمال تربیت کا موقع میسر آ گیا لیکن ایک ہی شخص نکلا جس میں اتنی ہمت اور طاقت تھی کہ وہ اپنی استعدادوں کو اُجاگر کرتا اور منور اور روشن کرتا اور قرآن کریم کی ہدایتوں پر عمل کر کے خود قرآن مجسم بن جاتا۔اگر باقیوں سے وہ آگے نکلا تو یہ اس کی اپنی ہمت اور شان ہے اللہ تعالیٰ نے زبردستی نہیں بٹھایا بلکہ ایک زمانہ انسان کے لئے