خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 323
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کہ ہر دو جہانوں کی بناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نبوت سے ہے (لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الَّا فَلاک) اور حضرت آدم کی نبوت بھی اور بعد میں آنے والے انبیاء کی نبوت بھی آپ ہی کی نبوت کے طفیل ہے۔پھر حضرت مجددالف ثانی تحریر فرماتے ہیں کہ : کائنات عالم کی تخلیق کا مقصد خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔دوسرے انبیاء" اپنے وجود اور کمالات کے حصول میں آپ کے طفیلی ہیں اور آپ ہی کی پیروی سے بلند مرتبوں تک ان کی رسائی ہوئی ہے اس لئے قیامت کے دن حضرت آدم اور دیگر تمام انبیاء، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہوں گے۔“ ( ترجمہ مکتوبات امام ربانی جلد اصفحہ ۴۲۵) اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی جو دارالعلوم دیو بند کے بانی اور مشہور مناظر ہیں۔جن کی وفات ۱۸۸۰ء میں ہوئی وہ لکھتے ہیں :۔جملہ کمالات میں خاتم الانبیاء کو اصل اور مصدر ماننا لا زم ہے جس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عالم امکان کمالات علمی ہوں یا کمالات عملی دونوں میں خاتم الانبیاء اصل اور مصدر ہیں اور سوا اس کے جو کوئی کچھ کمالات رکھتا ہے وہ دریوزہ گر خاتم الانبیاء ہے“ (رساله قبله نما صفحه ۲۴ بحوالہ افادات قاسمیه ) ارشادات فریدی میں ہے یعنی حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والے فرماتے ہیں کہ:۔( وہی ولایت عامہ اور خاصہ کا ایک ٹکڑا میں نے ان کا لیا ہے۔اسی کی طرف مفہوم کا 66 بیان ہے کہ ) حضرت آدم صفی اللہ سے خاتم الولا یہ امام مہدی تک ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ظہور فرما ہیں۔“ ( ترجمہ ارشادات فریدی حصہ دوم صفحه ۱۱۲۱۱۱) میں اس وقت یہ بیان کر رہا ہوں کہ یہ جو حدیث ہے نا! کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اپنی پوری حقیقت کے ساتھ اس وقت بھی موجود تھا کہ ابھی پیدائش عالم بھی نہیں ہوئی تھی۔مختلف الفاظ میں یہ مفہوم ادا ہوا ہے۔ایک تو روایت کے لحاظ سے یہ اتنی پختہ ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا دوسری درایت کے لحاظ سے بڑی پختہ ہے بزرگ علماء نے اسے