خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 276

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار بہر حال اچانک ساری دشمنیاں دور ہو گئیں اور دشمنی کی جگہ محبت پیدا ہوگئی۔یہ ایک بڑا لطیف بدلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے۔ایک علاقہ میں ہمارے کان میں ایذاء کی باتیں پڑ رہی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے کہا ( جہاں ایڈا کی باتیں کانوں میں پڑ رہی تھیں وہاں ) میٹھے بول شروع کر دو تا که مپینسیشن (Compansation) ہو جائے اور اس کا بدلہ ان کومل جائے۔میں نے بتایا ہے کہ ہمارا اصل کام ان طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو اس وقت اسلام کے خلاف کام کر رہی ہیں۔پہلا کام تو دفاع کرنا تھا لیکن اب خالی ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم دفاع کریں یہ تو بہت معمولی کام ہے اب ہمارا اصل کام یہ ہے کہ اس طاقت کے خلاف جو اسلام کے خلاف منصوبے بنا رہی ہے حملہ آوار ہوں۔ہم نے اب مخالف طاقتوں پر حملہ آور ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں جو کچھ میسر ہے وہ میری راہ میں قربان کر دو اور مجھے جو کچھ میسر ہے ( اور اس کو سب کچھ میسر ہے ) وہ میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہیں کامیابی دوں گا۔پس جوں جوں مخالف اسلام طاقتوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں توں توں بنی نوع انسان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ اگر سچی خوشیاں اور حقیقی امن اور سکون حاصل کرنا ہو تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ تلے ہی مل سکتا ہے۔پس تم وہاں اکٹھے ہو جاؤ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ کا کام ہے انسانوں کا یہ کام نہیں ہے۔میں نے یورپ کے سفر کے دوران بھی بہت سے نظارے دیکھے تھے اور سفر کے بعد واپس آکر میں نے بعض واقعات احباب کے سامنے بیان کئے تھے میں یہ باتیں بتاتا بھی ہوں اور خود بھی اپنا محاسبہ کرتا ہوں۔یہ باتیں آپ کو بھی ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئیں تا کہ کسی وقت فخر اور غرور کے جذبات دل میں پیدا نہ ہوں جو نیک اور شاندار نتائج اور انتہائی طور پر معجزانہ نتائج ہماری کوششوں کے نکل رہے ہیں وہ ہماری کوششوں کے نہیں نکل رہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو ہمیں نظر آ رہی ہے ورنہ ہماری کوشش کیا اور اس کے نتائج کیا۔خالی انگلستان ہی کے جو عیسائی ہیں ان کے بیسیوں نہیں سینکڑوں فرقے ہیں۔وہ سب فرقے عیسائیت کی تائید میں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔ان کے ایک چرچ ہی کو لیں ان کے ایک فرقہ کو ہی لیں وہ جو روپیہ خرچ کر رہے ہیں اس کا ایک فیصد بھی ہم ان کی مدافعت میں یا ان پر حملہ